ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد

روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دِکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اُسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اُردو غزل ہر عہد میں ثروت مند…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)

اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ معروضات

معروضات فنی نقطۂ نظر سے نعت، حضور ﷺ کے اوصاف و محاسن کا بیان ہے۔ اس کا لغوی مفہوم اگرچہ وصف ہے اور وصف نگاری کسی شخصیت کے لیے بھی ہو سکتی ہے ، لیکن اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے حضور ﷺ کی وصف نگاری ہی کو نعت کہا جائے گا۔ اس تناظر میں حضورﷺ کے اوصافِ حسنہ کے ذکر کے بجائے اگر مدّعا طلبی اور آپ سے وابستگی و والہیت اور دلی جذبات کے اظہار کا پہلو بھی شامل ہو تو اسے میں نعتیہ جذبات نگاری سے تعبیر کرتا…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری  

خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…

Read More