محمد ارشاد ۔۔۔۔ رباعیات

بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش ہوتی…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ اوّلیں اور آخری تنہا

اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے

مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے سفر کا موسم ترے اشارے کا منتظر ہے اسی لیے ہم زباں پہ لائے ہیں ذکر تیرا بیان کا حسن استعارے کا منتظر ہے روا نہیں مصلحت پسندی تری طلب میں خلوص اپنے لیے خسارے کا منتظر ہے تری نظر کی تپش سے شعلے بھڑک نہ جائیں بدن کا ایندھن کسی شرارے کا منتظر ہے تلاش کرتے ہیں خواب تعبیر اپنی اپنی صدف گہر کا، سفینہ دھارے کا منتظر ہے تجھے تو گلزار پار کرنا تھا دوسروں کو مگر تو اپنے لیے کنارے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے

نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی

سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی فرازِ کوہ پہ ماہِ تمام ہے ساقی چنے ہوئے ہیں پیالے جھکی ہوئی بوتل نیا قعود نرالا قیام ہے ساقی بہ ناز ِمغچگان و بہ فیض نعرۂ ہو ہمائے ارض و سما زیرِ دام ہے ساقی فضا پہ نہر پرافشانِ تابِ حور و طہور غنا میں شہرِ قصور و خیام ہے ساقی یہ کون شاہدِ مستی فروش و نغمہ نواز نفس کے تار پہ گرمِ خرام ہے ساقی نہ اسم و جسم نہ حرف و نفس نہ سایہ و نقل یہ کیا…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے

میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے پھر نگاہِ غور سے قانونِ قدرت دیکھیے سیرِ مہتاب و کواکب سے تبسم تابکے رو رہی ہے وہ کسی کی شمعِ تربت دیکھیے آپ اک جلوہ سراسر میں سراپا اک نظر اپنی حاجت دیکھیے میری ضرورت دیکھیے اپنے سامانِ تعیش سے اگر فرصت ملے بیکسوں کا بھی کبھی طرزِ معیشت دیکھیے مسکرا کر اس طرح آیا نہ کیجے سامنے کس قدر کمزور ہوں میں، میری صورت دیکھیے آپ کو لایا ہوں ویرانوں میں عبرت کے لیے حضرتِ دل دیکھیے اپنی حقیقت دیکھیے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ رضااللہ حیدر

قسم خدا کی وہ حسن و جمال دلکش ہے نبی کے روضے کا منظر کمال دلکش ہے رسول اعظم و آخر کا خُلق قرآں ہے ہماری ماں نے جو دی ہے مثال دلکش ہے وہ جس کو سُن کے ملائک بھی وجد کرتے تھے وہی اذان میں طرزِ بلال دلکش ہے گرے گا اب درِ خیبر بھی اور مرحب بھی خُدا کے شیر علی کا جلال دلکش ہے ربیعہ مانگ رہے ہیں ہے حضور کی سنگت جواب اچھوں سے اچھا سوال دلکش ہے طریقِ ہجرتِ نبوی پہ چل کے جاؤں…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے

اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…

Read More