عاصم بخاری ۔۔۔ ذکر اچھا نہیں برائی کا

ذکر اچھا نہیں برائی کا تذکرہ تم کرو بھلائی کا چار دن کے بخاری جیون میں فائدہ کیا کسی ، لڑائی کا اس جوانی کے دور میں اکثر شوق ہوتا ہے خود نمائی کا اپنی سنتا تو کوئی کیا سنتا تیری جانب تھا رخ خدائی کا نوکری بھی ہے نوکری لیکن لطف اپنا ہے اک پڑھائی کا وقت نے بادشہ بنایا ہے پاس کچھ تو کرو خدائی کا جرم عاصم ہمارا تھا اتنا شکوہ ہم سے ہوا نہ بھائی کا

Read More

محمد علوی मुहम्मद अलवी

پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی पहला फूल खिला था दिल मेंलहू में ख़ुशबू दौड़ गई थी

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی

اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں چنگاری چھپی تھی

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے

فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے ہمارے شہر کا موسم عجب ہے وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے

Read More

محمود کیفی ۔۔۔ رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا

رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میں تِرے دام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا اب کوئی کام محبت کے سِوا مُجھ کو نہیں اب اگر کام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا جپ رہا ہُوں یہ تِرا نام تو میں زِندہ ہُوں میں تِرے نام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میرے ہونے کی علامت ہے فلک پر یہ شفق منظرِ شام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا منظرِ عام پہ آنے سے یہ اِحساس ہُوا منظرِ عام سے نِکلوں گا…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی … गौहर होशियारपुरी

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی حق پرستی کو یہاں کون ہے آمادۂ دار کس کو توفیق ہے بے گور و کفن ہونے کی یا بچے گا نہ سحر تک کوئی درماندۂ شب یا…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ نہیں سب جذب آرزو کی تمازت کا کھیل ہے دل سرد ہو تو گرمئ محفل بھی کچھ نہیں بدلے تو اک نمونۂ‌ اعراض…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ مون سون

پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں پھر پرندے ہرے سمندر پر رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک پھر کسی یاد کی سیہ آندھی دل کے اطراف سے گزرتی ہے ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔ دور کچھ پربتوں کے دامن میں ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!

Read More

غلام جیلانی شمس ۔۔۔ نعت

رحمان کی رحمت کا وہ حقدار نہیں ہے جو ذاتِ محمد کا طلبگار نہیں ہے ہر خاک کا ذرّہ جو ہُوا شہرِ نبی میں یاقوت سے بہتر ہے وہ بیکار نہیں ہے وہ بولیں تو برسات ہو خوشبو کی ہر اک سو ایسی تو کسی اور کی گفتار نہیں ہے سرکارِ مدینہ کی شفاعت پہ نظر ہے محشر میں کوئی اور مددگار نہیں ہے ہو عود یا عنبر یا کوئی روغنِ گل ہو آقا کے پسینے سے مہکدار نہیں ہے ہے عشق اگر شاہِ مدینہ سے تو پھر شمس کل…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

کب کوئی عشق ترےؐ عشق کا ہم پایہ ہوا وہی جانیں کہ عطا جن کو یہ سرمایہ ہوا تھک کے تھم جاتی ہے ہر موجِ زمانہ آخر کہیں ٹھہرا نہ تریؐ راہ سے رَم آیا ہوا خیر و انعام کا رستہ تراؐ ایک ایک عمل حکمتِ تام کا دریا تراؐ فرمایا ہوا ورد کرتی ہیں ترےؐ نام کا سانسیں دم دم روح میں یوں تراؐ احساس ہے گہرایا ہوا نہیں ممکن کہ شفاعت کی نگاہوں میں نہ ہو دل کہ جو اپنی خطاؤں پہ ہو پچھتایا ہوا جس سے راضی…

Read More