ارشد معراج ۔۔۔ لوگ بہت عجیب ہیں

لوگ بہت عجیب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  نہیں میں بہت عجیب ہوں لوگ مجھے نہیں جانتے میں لوگوں کو نہیں جانتا پیچھے موٹرسائیکل والا رکشے والا ٹیکسی والا مسلسل ہارن بجا رہے ہیں سامنے سگنل سرخ ہے بھلا میں کیسے گزر سکتا ہوں انہیں راستے دے سکتا ہوں میرے دماغ میں دیمک رینگنے لگتے ہی مجھے bad vibes    آتی ہیں دفتر میں بہت زیادہ ایک جگہ ہے جہاں دیمک نہیں رینگتی کلاس روم مجھے موت کا خوف نہیں ہے جینا مجھے ڈرا رہا ہے معز کا مستقبل زہرہ کا بڑھاپا اعصاب…

Read More

ارشد معراج ۔۔۔ وہ کوئی اور تھا

وہ کوئی اور تھا ———— روشنی میرے حصے کی تھی اپنی رفتار کو تیز کر نہ سکی میں بھٹکتا رہا اِس طرف اُس طرف میں کہ صحراؤں میں دھول اُڑاتے ہوۓ رتھ پہ بیٹھا ہوا اک شکستہ بدن کون پہچانتا میرے کھیسے میں رکھے ہوۓ اُس کی قربت کے ٹکڑے بکھرتے رہے میں خزاں کی گھنی وادیوں میں کنویں کی طلب کا سہارا لیے دم بدم پا برہنہ رہا بوجھ بھیجے میں تھا پر یہ کاندھے مرے سوتری کی طرح روز کھنچتے رہے ان پہ رکھا ہوا میرا سر اِس…

Read More

بد گمانی کے اس طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔ ارشد معراج

بد گمانی کے اس طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی اے کاش ایسا ہو کہ باہم مشورے سے ہم جدائی کے سفر پر چل پڑ یں تو پھر کہانی ختم ہو جاۓ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ یہ عمر رواں اپنے بہاؤ کی مخالف سمت چل دے اور گلابی کا سنی یا سرمئی شامیں پلٹ آئیں سفر بے سمت ہوں تو پھر مسافر کو پنہ گاہیں نہیں ملتیں ( کہ خواب اُگتے نہیں ہیں آنکھ کی اس تھور مٹی میں ) کبھی ایسا نہیں ہوتا یقیں سے وصل کا دعوی ہوا کے تن…

Read More

تو پھر اک نظم اگتی ہے… ارشد معراج

تو پھر اِک نظم اُگتی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی آوارہ جھونکا موسموں کے ہاتھ سے پھسلے تو میں اس کی صداؤں کے تعاقب میں نکلتا ہوں اسے میں ڈھونڈتا ہوں شاخ پر تنہا لرزتے آخری پتے کی ہچکی میں کبھی ویران مندر کے اکھڑتے پتھروں سے جھانکتے پیپل کے پودے میں کبوتر کے بکھرتے آہلنے میں اور کبھی مکڑی کے جالے میں کبھی دریا کنارے ڈار سے بچھڑی ہوئی کونجوں کے گیتوں میں جہاں پر ہجر بہتا ہے اسے میں ڈھونڈتا ہوں اپنے کمرے میں پڑے بستر کی سلوٹ میں جہاں…

Read More