باقی احمد پوری ۔۔۔۔۔ محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں

محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں اور ان خوابوں کےاندر بھی نہاں کچھ خواب رکھے ہیں تم اپنی خواب گاہوں میں کسی دن غور سے دیکھو وہاں تعبیر بھی ہو گی جہاں کچھ خواب رکھے ہیں ستم گر آندھیوں کو کون یہ جا کر بتاتا ہے کہ گلشن میں برائے آشیاں کچھ خواب رکھے ہیں پڑائو ختم ہوتے ہی یہ منظر آنکھ نے دیکھا پسِ گرد و غبار ِکارواں کچھ خواب رکھے ہیں نہ کاغذ پر اُترتے ہیں نہ یہ رنگوں میں ڈھلتے ہیں مری آنکھوں میں ایسے…

Read More

نذرانہ سلام بہ حضور شہیدانِ کربلا…. باقی احمد پوری

تہِ ریگ ِ رواں پانی ہے شاید ذرا ٹھہرو یہاں پانی ہے شاید فرات ِ وقت پر پہرے لگے ہیں لہو سے بھی گراں پانی ہے شاید کبھی تھا تخت اس کا پانیوں پر اب اس کا آسماں پانی ہے شاید خدا کا رازداں کوئی نہیں ہے خدا کا رازداں پانی ہے شاید جو سبط ِ ساقی ِ کوثر ہے دیکھو اسی کا امتحاں پانی ہے شاید یہ آتش میں گھرے خیمے، یہ آہیں سکینہ کی فغاں پانی ہے شاید ستم کی داستاں یہ بھی سناتا کہے کیا بے زباں…

Read More