نئے بیانئے ارشاد کر دیے گئے ہیں کچھ اور ولولے برباد کر دیے گئے ہیں ہمیشہ ایک ہی تدبیر آزمائی گئی وفا کے قافلے افراد کر دیے گئے ہیں فرو ہوئی ہے بغاوت تو شہ کی جانب سے اطاعتوں کے ثمر لاد کر دیے گئے ہیں نصاب میں تھے جو عشق و جنوں کے افسانے وہ حرص و آز کی روداد کر دیے گئے ہیں اٹھا رہے تھے جو شہرِ صعود کی بنیاد وہ سب نشانۂ افتاد کر دیے گئے ہیں جو صاحبانِ سلوک و عطا تھے بستی میں سپردِ…
Read MoreTag: جلیل عالی
جلیل عالی ۔۔۔ کدھر کھلتا ہے در کوئی
کدھر کھلتا ہے در کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرتا ہی نہیں ہے وقت جبری چھٹیوں کا ایک اک لمحہ صدی جیسا گھریلو کھیل کوئی کب تلک کھیلے کسی تقریب میں شرکت تو کیا گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں ہے اپنے پیاروں کے بھی چہروں سے دل اکتانے لگے ہیں بھولتے جاتے ہیں سب آداب جو تہذیب کا حاصل تھے سرمایہ تھے خوش آہنگ بہتی زندگی کا فاصلہ تو فاصلہ ہے صرف جسموں تک نہیں رہتا اتر جاتا ہے روحوں میں ملاقاتوں کے آئینے چِھنے تو اپنی پہچانیں بھی کھو بیٹھے…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سلام
یزیدی عہد ہے امت کی رسوائی نہیں جاتی حسینیت کے دعوے ہیں کہیں پائی نہیں جاتی کوئی جب رزم و بزمِ کربلا کا راز پا جائے تو پھر جو سوچ میں آتی ہے گہرائی نہیں جاتی یہاں جھک جائیں جو سر تاجِ درویشی انھیں زیبا وہ کیا پائیں کہ جن سے بوئے دارائی نہیں جاتی یہ راہِ عشق و مستی ہے میاں اس راہ میں دل کیا قلم سے بھی توازن کی قسم کھائی نہیں جاتی قیام و صبرِ شبیری کا سورج بجھ نہیں سکتا یزیدی جبر کی جب تک…
Read Moreجلیل عالی…. سلام
سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…
Read Moreجلیل عالی
جلیل عالی
خیر دنیا سے سیاست سہی دنیا والی خود سے جو عہد کیا وہ تو نبھایا جائے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سپنوں کے سب رنگ ڈھلیں تعبیروں میں
سپنوں کے سب رنگ ڈھلیں تعبیروں میں یہ انعام کہاں اپنی تقدیروں میں ریزہ ریزہ خود کو ڈھونڈ رہا ہوں میں نقطہ نقطہ البم کی تصویروں میں بستی کا ہر چہرہ بھید کتابوں کا ایک کہانی شامل سب تحریروں میں اک دوجے کی الجھن کا سلجھائو بھی قید بھی ہم اپنی اپنی زنجیروں میں عالی اک دن پلکوں سے سب چھانٹو گے جتنے کنکر پھینک رہے ہو ہیروں میں
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی
ایک لمحہ کہ ملیں سارے زمانے جس میں ایک نکتہ سبھی حکمت کے خزانے جس میں دائرہ جس میں سما جائیں جہانوں کی حدود آئنہ جس میں نظر آئے عدم کا بھی وجود فرش پر عرش کی عظمت کی دلیلِ محکم خلق پر رحمتِ خالق کی سبیلِ محکم دسترس اُس کی نگاہوں کی کراں تا بہ کراں وہ تجسس کے لئے آخری منزل کا نشاں ایک توسیع کہ قسمت کی لکیروں میں رہے ایک تنبیہ کہ بیدار ضمیروں میں رہے
Read Moreجلیل عالی ۔۔ ا ب ج د
ا ب ج د……….جیسے فضا میںکبھی کبھی آوارہ بادلاک واضح تصویر کی حیرت بن جاتے ہیںجیسے درختوں کی شاخوں پرکبھی کبھی سر مست ہوائوں کے جھونکوں سےپتّوں کی آوازیںخوش آہنگ سُروں میں ڈھل جاتی ہیںجیسے کبھیہلکی ہلکی بارش کی بوندیںریت کی تختی پر پل بھر کونام کسی کا لکھ دیتی ہیںجیسے کوئی ننھا سا بچّہپہلی بار اچانک اک دنٹُوٹے پھُوٹے لفظ ملا کرپُوری بات بنا لیتا ہے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ باغِ گلِ سرخ ( افتخار عارف)
مضبوط بندش اور روایت کے تخلیقی تسلسل کے ممتاز شاعر جناب افتخار عارف کا تازہ شعری مجموعہ "باغِ گلِ سرخ” موصول ہوا۔افتخار عارف اپنے فکری و تہذیبی تشخص کی کلیت میں جیتے اور شعر کہتے ہیں۔ان کے کلام اور ان کی شخصیت میں کہیں دوئی کا شائبہ نہیں ہوتا۔ قدرت نے انہیں فکر و احساس اور زاویۂ نگاہ کے ایسے توازن سے نواز رکھا ہے کہ انہیں کسی پہلو سے معذرت خواہی کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ ایک صاحبِ واردات شاعر ہیں اور حضرت علی رض کے اس…
Read More