جدا جدا سب کے خواب تعبیر ایک جیسی ہمیں ازل سے ملی ہے تقدیر ایک جیسی سفر کٹھن ایک سا سبھی شوق راستوں کا وفا کے پائوں میں غم کی زنجیر ایک جیسی گزرتے لمحوں سے نقش کیا اپنے اپنے پوچھیں اِن آئنوں میں ہر ایک تصویر ایک جیسی تری شرر باریوں مری خاکساریوں کی ہوا کبھی تو کرے گی تشہیر ایک جیسی یہ طے ہوا ایک بار سب آزما کے دیکھیں نجاتِ قلب و نظر کی تدبیر ایک جیسی دلوں کے زمزم سے دھل کے نکلی ہوئی صدائیں سماعتوں…
Read MoreTag: جلیل عالی
دیباچہ ’’خواب دریچہ‘‘ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
پیش گفتار جلیل عالی نے اپنے دل کی لوح پر سچائی کا اسم روشن کر رکھا ہے۔یہ اس کے اپنے الفاظ ہیں مگر خود ستائی سے مبرا،اس لئے سچے اور دیانت دارانہ ہیں۔اس نے مرئی اور ظاہری سچائیوں پر ہی اکتفا نہیں کیابلکہ ڈھکی چھپی سچائیوں کابھی کھوج لگایا ہے۔ان سچائیوں کو ہر جہت سے پرکھا اور برتا ہے۔ہر سچے شاعر کی طرح اس کی منزل بھی وہ آخری سچائی، وہ آخری صداقت یا وہ آخری حقیقت ہے، جس کے لئے انسان نے مہذب ہونا سیکھا ۔کون کہہ سکتا ہے…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ افق پار سے کوئی دیتا صدائیں تو ہم کب ٹھہرتے
افق پار سے کوئی دیتا صدائیں تو ہم کب ٹھہرتے کبھی ساتھ لے کر نکلتیں ہوائیں تو ہم کب ٹھہرتے گزاری ہیں کتنی ہی طوفان راتیں گھروں میں سمٹ کر دمکتیں سرِ آسماں کہکشائیں تو ہم کب ٹھہرتے یہاں آندھیوں نے کہاں کوئی پرواز کی راہ چھوڑی ذرا بھی کہیں ساتھ دیتیں فضائیں تو ہم کب ٹھہرتے بلایا کئی آشنا موسموں نے ملن ساحلوں پر نہ دیوار بنتیں ہماری انائیں تو ہم کب ٹھہرتے زمانے کی برفاب رُت سے کہاں کشتیِ شوق رکتی اترتیں نہ اپنے لہو میں خزائیں تو…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
جلیل عالی ۔۔۔ ڈر لگتا ہے
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم : جلیل عالی
جلیل عالی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
ماہ نامہ بیاض ، لاہور ۔۔۔۔ اگست 2023 ۔۔۔ فہرست
جلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے
دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کون اس غم سے رہائی دے مجھے
کون اس غم سے رہائی دے مجھے ہر خوشی جھوٹی دکھائی دے مجھے منکشف کر سوچ سے پہلے کی بات لفظ سے آگے رسائی دے مجھے دل تہوں میں کوئی سرگوشی اُگا فصلِ صبحِ آشنائی دے مجھے لا مکاں بھی آنکھ پُتلی میں کھِلے وہ نگاہِ ماورائی دے مجھے کشتیِ جاں اک کنارے تو لگے درد کوئی انتہائی دے مجھے
Read More