ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺯﺍﻭﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﯾﮩﺎﮞ
Read MoreTag: شاعری
یزدانی جالندھری
دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہے داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم
Read Moreاقبال عظیم
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
Read Moreحمایت علی شاعر
ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺁﻣﺎﺟﮕﮧِ ﺣﺴﻦ ﮨﮯ ﺷﺎﻋﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﺣﺠلۂ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﮯ
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں رسائی کیا وہاں…
Read Moreادا جعفری
بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو رلا دیا خود بھی تو وہ بچھڑ کر ادھورا سا ہو گیا مجھ کو بھی اس ہجوم میں تنہا بنا دیا
Read Moreمینو بخشی ۔۔۔ آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے جس کی فطرت ہے…
Read Moreدلاور فگار
جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے
Read Moreمنیر نیازی
رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا
Read More