مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ
Read MoreTag: caarwan
صفی لکھنوی … غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سن کے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا
Read Moreصفی لکھنوی
پتا میرا بتا دے کاش بڑھ کر آرزو میری مری ناکامیوں کو دیکھتی ہے جستجو میری
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا
Read Moreاحمد مشتاق
سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو
Read Moreابراہیم اشک
ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﺠﺐ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺗﮭﺎ
Read Moreابراہیم اشک
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں
Read Moreابراہیم اشک
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺗﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﮭﺎ
Read Moreناظم علی خان ہجر
عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں
Read Moreبشر نواز
صدیوں کا غم سمٹ کے دلوں میں اتر گیا ہم لوگ زندگی کے گنہ گار ہو گئے
Read More