پسند کا محاذ ….. جلیل عالی

پسند کا محاذ ………….. رن پڑا تو وفا کے متوالے توڑ کر کل کی سوچ زنجیریں پھاند کر ذات کی فصیلوں کو آگ اور خون کے سمندر میں کیسے دیوانہ وار کود گئے اور ہم کو یہ انتطار کہ کب معرکہ ختم ہو تو اپنا قلم فاتحوں کے لئے قصیدے کہے مرنے والوں کے مرثیے لکھے

Read More

جلیل عالی…. شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں

شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں کہ خاکِ خواب سے خوابِ دگر نکالتے ہیں ہمارے حوصلے دیکھو قدم قدم کیسے تمہارے قامتِ قسوت سے سر نکالتے ہیں گرا گرا کے وہ بارود ہار جائے گا ہم اک نگاہ میں ملبے سے گھر نکالتے ہیں کس اوجِ شوق سے زیرِ زمیں اترتے ہیں اور اپنی خاک سے شمس و قمر نکالتے ہیں متاعِ اہلِ وفا اک یہی سر و سودا ہو جس طرح کی بھی دیوار ، در نکالتے ہیں یہی قلم کی ہے رَو بجھ نہ پائے لفظ کی…

Read More

جلیل عالی

خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے

Read More