جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…
Read MoreTag: shayari
جلی امروہی ۔۔۔ نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺍﮨﻞِ ﻇﺮﻑ ﺍﮨﻞِ ﻧﻈﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﺰﻡِ ﻋﺸﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻘﺎﻥِ ﻃﺮﺏ ﻧﺎﻟۂ ﺩﻝ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﺭﺱ ﻟﻮ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺣﺒﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﻠﯽ ﺩﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ…
Read Moreعزیز قیسی
عجیب شہر ہے گھر بھی ہیں راستوں کی طرح کسے نصیب ہے راتوں کو چھپ کے رونا بھی
Read Moreراحت اندوری
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
Read Moreادا جعفری
کوئی طائر ادھر نہیں آتا کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…
Read Moreصبا اکبر آبادی ۔۔۔ جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش آ جائے تو سناؤں گا چشمِ دیوانہ گر کا قصہ ہے چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی صرف سمتِ سفر کا قصہ ہے جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا زندگی، عمر بھر کا قصہ ہے…
Read Moreفراق گورکھپوری ۔۔۔ وقت غروب آج کرامات ہو گئی
وقت غروب آج کرامات ہو گئی زلفوں کو اس نے کھول دیا، رات ہو گئی کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی اے سوزِ عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلفِ شکن شکن ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی صبر آ گیا…
Read Moreاحمد ادریس
تجھ سے آغاز ہوا حرفِ صداقت کا نصاب تیرے سینے سے چلی جراتِ انکار حسین
Read Moreتابش مہدی ۔۔۔ بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا
بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا جوانوں کو جو درسِ بزدلی دیں کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا نہیں ہے گھر میں مال و زر تو کیا غم وراثت میں مگر قرضے نہ رکھنا رئیسِ شہر کو میں جانتا ہوں کوئی امید…
Read More