حامد یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔ پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے

پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے زمیں نے آئنہ دیکھا نہیں سنورتے ہُوئے مِرے خیال کے سب رُوپ، اپنے حُسن کی دھوپ وہ لے اُڑا ہے مِرے خواب سے گذرتے ہوئے کچھ ایسے دوست نہیں ہیں توازن و رفتار رہا نہ دھیان میں ڈھلوان سے اُترتے ہُوئے کوئی چراغ جلا کر منڈیر پر رکھ د و ہَوا اُداس نہ ہو جائے پھر گذرتے ہُوئے کہیں جو گھر سے اُدھر بھی مِر ا ہی گھر نکلا ! ٹھٹھک گیا تھا میں دہلیز پار کرتے ہُوئے تِرے پڑوس میں صحر…

Read More

غزل ۔۔۔ منجمد ہو گیا لہو دل کا ۔۔۔ سید آلِ احمد

منجمد ہو گیا لہو دل کا تیرے غم کا چراغ کیا جلتا وہ بھی دن تھے کہ اے سکونِ نظر! تو مری دسترس سے باہر تھا بجھ گئی پیاس آخرش اے دل! ہو گیا خشک آنکھ کا دریا تو مرا پیار مجھ کو لوٹا دے جانے والے! اُداسیاں نہ بڑھا پاسِ خاطر ہے شہر میں کس کو کون کرتا ہے اعترافِ وفا تیری خواہش، بھنور بھنور ساحل میری منزل، سکوت کا صحرا پوچھتی تھی خزاں بہار کا حال شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتا کیسے ٹھہرے ہو سوچ میں احمدؔ…

Read More

سید علی مطہر اشعر

دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔ یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے

یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے میرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اُتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز، ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوے آخرِ شب خامشی، پیڑ، ستارے، جھرنے ایک وادی ہے سرِ کوہِ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوے وقت کی رَو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتائوں میں انھیں، تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے…

Read More

سیّدظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں

(نذرِ لیاقت علی عاصم) حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں گھر بنانے کا حوصلہ ہی نہیں جس کی خاطر سفر تمام کیا مجھ کو منزل پہ وہ ملا ہی نہیں میری آنکھوں میں خواب ہیں تیرے ورنہ جینے کا حوصلہ ہی نہیں شہر خوابوں کا بس گیا،لیکن اک مسافر پلٹ سکا ہی نہیں تو نے پوچھا ہے حال رستوں کا میری آنکھوں میں کچھ بچا ہی نہیں مجھ سے بچھڑا بڑی سہولت سے جیسے وہ مجھ کو جانتا ہی نہیں آ تجھے چھوڑ آئوں منزل تک پھر نہ کہنا: مجھے…

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔۔ ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا

ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا تیرے لیے سکون کے لمحے بنائوں گا میں نے بدل لیا ہے رویہ ہواے شب! اب تو دیا بجھاے گی میں پھر جلائوں گا چل ہی پڑے گی چاروں طرف بادِ نو بہار جب میں زمیں پہ آخری پتا گرائوں گا فرضی حکایتوں پہ نہ آنسو گنوائو تم یارو! کبھی میں اپنی کہانی سنائوں گا پھیلائوں گا میں دامنِ دل تیرے سامنے تو سوچتا ہے، مَیں ترا احساں اٹھائوں گا اک پل میں ایک واقعہ رکھوں گا دھیان میں اور دوسرے ہی…

Read More

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی ….. سید آلِ احمد

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی خوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ شب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر برقِ تبسمات بہت دُور تک گئی خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے مَیں تاریکیٔ حیات بہت دور تک گئی احمدؔ سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی

Read More

سید علی مطہر اشعر

پھر لختِ جگر کوئلہ لے آیا کہیں سے اب دیکھیے کیا کیا سرِ دیوار بنے گا

Read More

غزل ۔۔۔ سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں

سوچ کی دستک نہیں، یادوں کی خوشبو بھی نہیں زیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیرائو سے ڈر لگنے لگا دھڑکنوں کے دشت میں اک چشمِ آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملے قرب کی ٹھنڈی ہوا کیا، کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا خول سب پہنے ہوئے دوستی کیا اب کوئی تسکیں کا پہلو بھی نہیں ضبط کے گہرے سمندر کو تموج بخش دے پیار کی جلتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں وقت نے…

Read More

غزل ۔۔۔۔ میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں

میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جگ میں کس کا کون ہوا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں من مورکھ ہے‘ مت سمجھائو‘ کرنی کا پھل پائے گا چڑھتا دریا کب ٹھہرا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں تم تو اب بھی مجھ سے پہروں دھیان میں باتیں کرتے ہو ترکِ تعلق کیا ہوتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جانے والے‘ حد یقیں تک ہم نے جاتے دیکھے ہیں واپس لوٹ کے کون آتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں میں سوچوں کی…

Read More