ڈاکٹر رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں پہلی ترقی پسند خاتون تھیں جو عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئیں بل کہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ اِس تحریک کے بانی اراکین میں شامل تھیں۔۱۹۰۵ء میں متحدہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد شیخ عبداللہ علی گڑھ کے معروف ماہر تعلیم اور علی گڑھ کالج برائے خواتین کے بانی تھے۔حکومتِ ہند کی طرف سے تعلیمی خدمات پر انہیں پدم بوشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔اُن کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم ایک رسالہ ’’خاتون‘‘…
Read MoreTag: Urdu adab
پروین شاکر ۔۔۔ جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا میں مطمئن ہوں ،مرا دل تری پناہ میں ہے بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے یہی وہ…
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔ دوست بھی ملتے ہیں، محفل بھی جمی رہتی ہے
دوست بھی ملتے ہیں، محفل بھی جمی رہتی ہے تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شاید مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟ کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب کچھ جزیروں پہ سدا دُھند جمی رہتی ہے تم بھی پاگل ہو کہ اُس شخص پہ مرتے ہو فراز ایک دنیا کی نظر جس پہ جمی رہتی ہے
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حجاب امتیاز علی
حجاب امتیاز علی حجاب امتیاز علی اُردو ادب کی پہلی فکشن نگار خاتوں ہیں جنہوں نے تحیر آمیزی اور خوف ناکی سے اُردو ادب کے قاری کے چونکایا۔ مزید براں انہوں نے کوشش کی کہ افسانے کی فن کی روح اور تیکنیک پر عمل کیا جائے۔وہ ماحول کو سحر زدہ کر کے قاری کو متجسس کر دیتی تھیں۔اُن کا اسلوب بر جستہ اور مرصع ہوتا تھا۔اُن کے پلاٹ میں رومانیت بھی تھی اور وہ زیادہ تر متمول اور اونچے گھرانوں کے کرداروں کے گرد گھومتا تھا۔ اُ‘ن کے موضوعات میں…
Read Moreمحمد علوی
ارے یہ دل اور اتنا خالی کوئی مصیبت ہی پال رکھیے
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نذر سجاد حیدر
نذر سجاد حیدر نذر سجاد حیدرکا شمار اُردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد مضامین اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اصلاحی و معاشرتی ناول بھی لکھے۔ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا۔ یہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف لوگ انگریزی حکومت کے خلاف حصول آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔انہوںنے کئی ناول لکھے جن میں اختر النسا، آہ مظلوماں،نجمہ…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے
اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے ہم اِدھر مجبور ہیں اور وہ اُدھر مجبور ہے شب کو چھپ کر آئیے آنا اگر منظور ہے آپ کے گھر سے ہمارا گھر ہی کتنی دور ہے لاکھ منت کی مگر اک بات بھی منہ سے نہ کی آپ کی تصویر بھی کتنی بڑی مغرور ہے اس اندھیری رات میں، اے شیخ! پہچانے گا کون بند ہے مسجد کا در تو مے کدہ کیا دور ہے ایک رشکِ غیر کا صدمہ تو اٹھ سکتا نہیں اور جو فرمائیے سب کچھ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عذرا اصغر
عذرا اصغر عذرا اصغر کا شمار اِس وقت ہمارے سینئر اور منجھے ہوئے فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔وہ تقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔گھر میں ایک بڑی بہن اور دو بڑے بھائیوں کے بعد چھوٹی اولاد تھیں یعنی بچپن میں گھر بھر کاپیار ملا مگر والد کی دوسری شادی کی وجہ سے ہجرتیں بھی مقدر بنیں۔علمی تربیت دادا نے کی۔مسافرت اتنی رہی کہ تعلیمی سلسلہ بار بار ٹوٹتا جڑتا رہا۔ پاکستان ہجرت کی تو گوجرانوالہ سے سرگودھا اور پھر فیصل آباد میں آباد ہوئیں۔بعد ازاں لاہور،…
Read Moreمحسن اسرار
عاقبت کی تجھے ہے فکر بہت اور جو زندگی ابھی کی ہے؟
Read Moreمحسن اسرار
دلوں میں جھانکنے والی نظر کچھ اور ہوتی ہے نظر آتے نہیں جو، وہ تماشے اور ہوتے ہیں
Read More