تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
Read MoreTag: Urdu adab
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے یہ تم نے کیا کہا مجھ پر زمانہ ہے فدا دل سے ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے نگاہیں ان کی دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی نہ رو اے بلبلِ…
Read Moreسعادت حسن منٹو ۔۔۔ وہ لڑکی
سوا چار بج چکے تھے لیکن دھوپ میں وہی تمازت تھی جو دوپہر کو بارہ بجے کے قریب تھی۔ اس نے بالکنی میں آکر باہر دیکھا تو اسے ایک لڑکی نظر آئی جو بظاہر دھوپ سے بچنے کے لیے ایک سایہ دار درخت کی چھاؤں میں آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔ اس کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ اتنا سانولا کہ وہ درخت کی چھاؤں کا ایک حصہ معلوم ہوتا تھا۔ سریندر نے جب اس کو دیکھا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی قربت چاہتا ہے، حالانکہ وہ…
Read Moreاحمد فراز
اب اُسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
Read Moreعرفان ستار ۔۔۔ پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟
پوچھتے کیا ہو دل کی حالت کا؟ درد ہے، درد بھی قیامت کا یار، نشتر تو سب کے ہاتھ میں ہے کوئی ماہر بھی ہے جراحت کا؟ اک نظر کیا اٹھی، کہ اس دل پر آج تک بوجھ ہے مروّت کا دل نے کیا سوچ کر کیا آخر فیصلہ عقل کی حمایت کا کوئی مجھ سے مکالمہ بھی کرے میں بھی کردار ہوں حکایت کا آپ سے نبھ نہیں رہی اِس کی؟ قتل کردیجیے روایت کا نہیں کُھلتا یہ رشتۂ باہم گفتگو کا ہے یا وضاحت کا؟ تیری ہر بات…
Read Moreشکیب جلالی ۔۔۔ بستی نئی بسی ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ
یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ منظر کو دیکھ کر پس منظر بھی دیکھیے بستی نئی بسی ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ سائے میں جان پڑ گئی دیکھا جو غور سے مخصوص یہ کمال ہے اہلِ نظر کے ساتھ اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہیں جسے الجھے ہیں اب بھی دھوپ کے ڈورے کگر کے ساتھ اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ اس…
Read Moreعرفان صدیقی ۔۔۔ اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ…
Read Moreمجید امجد ۔۔۔ اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا
اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا خیال صبحوں، کرن ساحلوں کی اوٹ سدا میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے میں اپنی سوچ کی بےحرف لو جلا رکھتا ہوا کے سایوں میں، ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا انھی حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا پلٹ پڑا ہوں…
Read Moreپروین شاکر
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
Read More