اکرم کنجاہی ۔۔۔ ہاجرہ مسرور

ہاجرہ مسرور ہاجرہ مسرور ۱۷ ؍جنوری ۱۹۲۹ ء کے روز لکھنو میں پیدا ہوئیں۔اُن کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔وہ ممتاز فکشن نگار خدیجہ مستور اور نام ور شاعر خالد احمد کی بہن تھیں۔اُن کی افسانہ نگاری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔تقسیمِ ہند سے پہلے اُن کے مجموعے ’’چرکے‘‘ اور ’’’’چاند کے اُس پار‘‘ شائع ہوئے جب کہ ’’ہائے اللہ‘‘، چھپے چوری، تیری منزل، وہ لوگ، اندھیرے اجالے اور سب افسانے میرے تقسیمِ ہند کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ اُن کے ابتدائی…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا

ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا آتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلنا محشر بپا کیا ہے رفتار نے تمہاری اس چال کے تصدق یہ بھی ہے کوئی چلنا غیروں کے گھر تو شب کو جاتے ہو بارہا تم بھولے سے میرے گھر بھی اک روز آ نکلنا ہٹ کی کچھ انتہا ہے ضد کی بھی کوئی حد ہے یہ بات بات پر تو اچھا نہیں مچلنا جلتا ہے غیر ہم سے تو کیا خطا ہماری تم یہ سمجھ لو اس کی تقدیر میں ہے…

Read More

محمد علوی … رات کے منہ پر اجالا چاہیئے

رات کے منہ پر اجالا چاہیئے چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا اب اسے دل سے نکالا چاہیئے پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں بھیک لینے کو پیالہ چاہیئے یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے کچھ بہانا کر کے ٹالا چاہیئے شاعری مانگے ہے پورا آدمی اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے

Read More