کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں
Read MoreTag: Urdu adab
رضاء الحق صدیقی ۔۔۔ اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘
اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘ اعجاز گل نے گمان کی دنیا بسائی تو اُسے گمان آباد کا نام دیا۔ شاعری میں گمان آباد جیسے تجربے بہت کم ہوئے ہیں۔خواجہ میر درد نے کہا تھا: ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے اعجاز گل نے اپنے گماں آباد کا آغاز ہی ازلی تجسس سے کیا ہے۔ تجسس انسانی طبیعت میں شامل ہے۔ اور اسی تجسس نے اسے جنت سے ازلی ہجرت پر مجبور کیا: ذرا بتلا زماں کیا ہے، مکاں کے اُس طرف کیا…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا
آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا نقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھر باقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پر سورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیں خطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا دونوں کے دل میں خوف تھا میدانِ جنگ میں دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا علوی کواڑ کھول کے دیکھا تو کچھ نہ تھا وہ…
Read Moreمرزا غالب ۔۔۔ دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا دل میں ذوقِِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ، غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا دود میرا…
Read Moreاشرف سلیم ۔۔۔ عشق میں حد سے گزر جاتے ہیں
عشق میں حد سے گزر جاتے ہیں لوگ چپ چاپ سے مر جاتے ہیں جن کو تنہائی وراثت میں ملی کب وہ وحشت لیے گھر جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں ادھورے ہوں خواب اپنی آہٹ ہی سے ڈر جاتے ہیں بھول جاتی ہے گلی بھی اپنی اس کی باتوں پہ اگر جاتے ہیں کیا بتائیں تجھے محفل سے تری اٹھ کے ہم جانے کدھر جاتے ہیں جن پہ دعویٰ ہو محبت کا سلیم وقت کے ساتھ بکھر جاتے ہیں
Read Moreرشید امجد ۔۔۔ دشتِ تمنّا
خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لئے کچھ تھا بھی…
Read Moreخالد احمد
مری بات کہتے رہنا ، یہ قلم اُٹھائے رکھنا یہ علَم فرو نہ کرنا ، یہ فلک سجائے رکھنا
Read Moreعادل رضا منصوری
لگا ہوا ہے ابھی تک یہ جان کو کھٹکا کہ اس نے جاتے ہوئے کیوں پلٹ کے دیکھا تھا
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ہاجرہ مسرور
ہاجرہ مسرور ہاجرہ مسرور ۱۷ ؍جنوری ۱۹۲۹ ء کے روز لکھنو میں پیدا ہوئیں۔اُن کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔وہ ممتاز فکشن نگار خدیجہ مستور اور نام ور شاعر خالد احمد کی بہن تھیں۔اُن کی افسانہ نگاری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔تقسیمِ ہند سے پہلے اُن کے مجموعے ’’چرکے‘‘ اور ’’’’چاند کے اُس پار‘‘ شائع ہوئے جب کہ ’’ہائے اللہ‘‘، چھپے چوری، تیری منزل، وہ لوگ، اندھیرے اجالے اور سب افسانے میرے تقسیمِ ہند کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ اُن کے ابتدائی…
Read More