حنیف فوق ۔۔۔۔ فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی

فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکس‌ِ خفی نقشِ جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخِ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبعِ جہاں کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی تھی محیط ہنگامۂ آفاق پر ہے صدائے درد جو دل میں پلی تھی غنیمت جانئے پھر نیم روشن چراغ راہ سے اپنی گلی تھی برا ہو آگہی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تزئین راز زیدی

تزئین راز زیدی تزئین راز زیدی کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ تین شعری مجموعے راز داں‘ مضرابِ رگ جاں اور کسک منظر عام پر آچکے ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خط و خال‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اُن کے ہاں کچھ نہ کچھ اچھوتے موضوعات ضرور ملتے ہیں۔اکثر افسانے کا آغاز مکالمہ نگاری یا پھر کسی نہ کسی شعر سے کرتی ہیں کہ خود اُن کی پہلی پہچان شاعری ہے۔اِسی طرح اُن کے کئی افسانے ایسے ہیں…

Read More

رضاء الحق صدیقی ۔۔۔ اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘

اعجاز گل کا ’’گمان آباد‘‘ اعجاز گل نے گمان کی دنیا بسائی تو اُسے گمان آباد کا نام دیا۔ شاعری میں گمان آباد جیسے تجربے بہت کم ہوئے ہیں۔خواجہ میر درد نے کہا تھا: ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے اعجاز گل نے اپنے گماں آباد کا آغاز ہی ازلی تجسس سے کیا ہے۔ تجسس انسانی طبیعت میں شامل ہے۔ اور اسی تجسس نے اسے جنت سے ازلی ہجرت پر مجبور کیا: ذرا بتلا زماں کیا ہے، مکاں کے اُس طرف کیا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا

آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا نقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھر باقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پر سورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیں خطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا دونوں کے دل میں خوف تھا میدانِ جنگ میں دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا علوی کواڑ کھول کے دیکھا تو کچھ نہ تھا وہ…

Read More

مرزا غالب ۔۔۔ دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا دل میں ذوقِِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ، غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا دود میرا…

Read More

اشرف سلیم ۔۔۔ عشق میں حد سے گزر جاتے ہیں

عشق میں حد سے گزر جاتے ہیں لوگ چپ چاپ سے مر جاتے ہیں جن کو تنہائی وراثت میں ملی کب وہ وحشت لیے گھر جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں ادھورے ہوں خواب اپنی آہٹ ہی سے ڈر جاتے ہیں بھول جاتی ہے گلی بھی اپنی اس کی باتوں پہ اگر جاتے ہیں کیا بتائیں تجھے محفل سے تری اٹھ کے ہم جانے کدھر جاتے ہیں جن پہ دعویٰ ہو محبت کا سلیم وقت کے ساتھ بکھر جاتے ہیں

Read More

رشید امجد ۔۔۔ دشتِ تمنّا

خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لئے کچھ تھا بھی…

Read More