خیالِ خاطرِ احباب اور کیا کرتے جگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیا
Read MoreTag: Urdu adab
آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں
اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…
Read Moreصوفی تبسم
دبے دبے رہے سینے میں آرزو کے داغ تمہارے حسن کے آگے چراغ کیا جلتے؟
Read Moreشیفتہ ۔۔۔ کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں
کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیں اے دل! یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیں بے اشکِ لالہ گوں بھی میں بے آبرو نہیں آنسو میں رنگ کیا ہو کہ دل میں لہو نہیں پھر بھی کہو گے چھیڑنے کی اپنی خو نہیں عطرِ سہاگ ملتے ہو وہ جس میں بو نہیں یہ کیا کہا کہ بکتے ہو کیوں آپ ہی آپ تم اے ہم نشیں مگر وہ مرے روبرو نہیں بے طاقتی نے کام سے یہ کھو دیا کہ بس دل گم ہوا ہے اور سرِ…
Read Moreعاکف غنی
عشق کے سیل کو روکنے کے لیے غم کی دیوار رستے میں رکھ دی گئی
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ اختر
فہمیدہ اختر تقسیمِ ہند سے پہلے موجودہ خیبر پختونخوا میں کوئی بڑا افسانہ نگار پیدا نہیں ہوا۔ ایک نام نصیر الدین نصیر کا سامنے آتا ہے جو ۱۹۳۰ ء تک افسانے لکھتے رہے۔اُن کے افسانے زیادہ تر اصلاحی رنگ میں اور وعظ و نصیحت پر مبنی تھے۔اُن کے افسانے ادبی جرائد میں تو شائع ہوتے رہے مگر کوئی مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ فہمیدہ اختر خیبر پختونخوا کی اُن نمایاں افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کی کہانیوں کے پلاٹ آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے محنت کش اور غریب مگر…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ام عمارہ
ام عمارہ امِ عمارہ خیبر پختونخوا کی ایک با شعور افسانہ نگار ہیں۔ہر مسئلے کو ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی، سوچتی اور پرکھتی ہیں۔۱۹۹۰ء میں جب اُن کے افسانوی مجموعہ ’’درد روشن ہے‘‘ اور آگہی کے ویرانے‘‘ شائع ہوئے تو نہ صرف فکشن نگاروں نے بل کہ ادب کے قاری نے بھی اُن کو سراہا۔ اُنہوں نے بنگلادیش سے ہجرت کاکرب سہا تھا،وہ وہاں سے یہاں خیبر پختونخوا میں آباد ہوئیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے قومی تاریخ کا الم ناک سانحہ ہے جو ہر محبِ وطن کے مغموم کر…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نسیم انجم
نسیم انجم نسیم انجم کراچی میں مقیم ہیں۔یہیں۱۹۵۶ء میںپیدا ہوئیں۔ ممتاز فکشن نگار، صحافی،کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ درس و تدریس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔گزشتہ ۲۰؍ برسوں سے روز نامہ ایکسپریس کے لیے کالم لکھ رہی ہیں۔ماہنامہ ’’چاند گاڑی‘‘ کی مدیرہ اور’’اسپورٹس انٹرنیشنل‘‘ کی نائب مدیرہ رہی ہیں۔ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔اُن کے افسانوی مجموعے دھوپ چھاؤں، گلاب فن اور دوسرے افسانے، اور آج کا انسان کے نام سے شائع ہوئے۔ناول کائنات، آہٹ، پتوار، نرک اور سر بازار رقصاں کے نام سے شائع ہوئے۔ آپ کا…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز پروین
شہناز پروین شہناز پروین ہمارے عہد کی ’’خالص افسانہ نگار‘‘ ہیں۔یہ خالص کا لفظ اُن کی تخلیقی ہُنر مندی کو واضح کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے جتنے بھی افسانے لکھے ہیں، وہ ایک صاحبِ اسلوب مصنفہ کے رنگ میں لکھے ہیں۔ اُنہوں نے ادبی منظر نامے میں ہلچل پیدا کرنے یا اپنے قاری پر اپنی ڈکشن یا علمیت کا رعب قائم کرنے کے لیے کہیں زیادہ فلسفیانہ مکالمے لکھے ہیں اور نہ ہی افسانوں کووعظ و نصیحت کے مضامین بننے دیا ہے۔ مزید براں کہیں ذہنی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن
سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…
Read More