وہؐ سُن کے عِشق میں ڈوبی سطُور، خوش ہوں گے
غلام سے مرے آقا حضورؐ خوش ہوں گے
بُلاوا آیا جو عُشّاق کو مدینے سے
بحور و دشت بھی کر کے عبور خوش ہوں گے
خدا کرے یہ مرا خواب سچا ثابت ہو
کہ میری نعت سنیں گے حضورؐ، خوش ہوں گے
اُڑان میں جو کریں گے طوافِ گُنبدِ سبز
تو خوب چہکیں گے اُڑتے طیور، خوش ہوں گے !
پسینہ اُن ؐ کا جو پھیلائے گا مہک اپنی
تو ہار مان کے عُود و بخُور خوش ہوں گے
مدینے جاتے ہوئے اس لئے بھی مَیں خوش ہوں
کہ دے کے و ہ ؐ مجھے عجوہ کھجور، خوش ہوں گے
وہ ؐ نعت گو شُعَرَاء کے عمل بھی دیکھیں گے
اگر تضاد نہ پایا، حضورؐ خوش ہوں گے
ملاحظہ جو کریں گے مقام آقاؐ کا
یقیں ہے، مُوسیٰ سرِ کوہِ طور خوش ہوں گے
نبی ؐ سے عشق جو کرتے ہیں اُن کو جنّت میں
فرشتے دے کے شرابِ طہور خوش ہوں گے
جب اپنی روح میں اِک نغمگی سُنیں گے نسیمؔ
پڑھیں گے لوگ جو تسبیحِ نُور، خوش ہوں گے
