احمد شاہ خان شبنم ۔۔۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں، سنتے تھے کہ مال اچھا ہے

تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہے ایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہے دل مرا دیکھ کے منہ پھیر کے نفرت سے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں سنتے تھے کہ مال اچھا ہے غیر کے ساتھ وہ آتے ہیں عیادت کے لئے ان سے کہہ دے کوئی جا کر مرا حال اچھا ہے آج اس بت کو دکھا لائے تجھے اے واعظ اب نہ کہنا کبھی حوروں کا جمال اچھا ہے جامِ جم چاہئے شبنم کو نہ اے پیرِ مغاں جلد دے بھر…

Read More

جینا قریشی ۔۔۔ اس نے بس اتنا کہا تھا کہ سوال اچھا ہے  

ناصحا تو ہی بتا کیا یہ خیال اچھا ہے طائرِ دل کے لئے عشق کا جال اچھا ہے در بدر تھے ہی پہ اب عشق نے پاگل بھی کیا نیم جاں پھرتے ہو کہتے ہو کہ حال اچھا ہے شاملِ فطرتِ آدم ہے ازل سے ہی خطا سو خطاؤں پہ جو کرتا ہے ملال اچھا ہے میں نے پوچھا تھا کہ پھر وصل میسر ہوگا اس نے بس اتنا کہا تھا کہ سوال اچھا ہے کام آیا کسی مزدور کے ایندھن بن کر سنگِ نایاب سے ریحانِ غزال اچھا ہے

Read More

راجہ نوشاد علی خان ۔۔۔ آج تو آپ کے بیمار کا حال اچھا ہے

ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہے دیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہے آپ کی چشمِ عنایت نے سنبھالا اس کو آج تو آپ کے بیمار کا حال اچھا ہے حال جب ہوگا برا دیکھنے وہ آئیں گے لوگ کہتے ہیں برا جس کو وہ حال اچھا ہے جس سے ملتے ہیں ملاتے ہیں اجل سے اس کو چشمِ قاتل میں تمہاری یہ کمال اچھا ہے وصل جب اس بتِ کافر کا میسر ہو جائے روز وہ اچھا، وہ ماہ اچھا، وہ سال اچھا ہے…

Read More

واحد انصاری برہانپوری ۔۔۔ سب دلالوں میں طوائف کا دلال اچھا ہے

سب دلالوں میں طوائف کا دلال اچھا ہے جس طرح کا بھی کسی میں ہو کمال اچھا ہے دیکھ کر شکل طبیبوں کی جب آتی ہے ہنسی وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے جیب خالی ہو تو پھر شہد لگے زہر ہمیں جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے خوش ہو اے دل کے ملے گی تجھے دولت غم کی اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے کوئی احمق ہی نہ مانے گا اگر میں یہ کہوں ساغرِ جم سے…

Read More

رنج حیدر آبادی ۔۔۔۔ ہم مرے جاتے ہیں کمبخت کا حال اچھا ہے

دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہے منتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہے وہ عیادت کو مری آ کے یہ فرماتے ہیں شکر صد شکر کہ بیمار کا حال اچھا ہے میں یہ کہتا ہوں کہ آغازِ محبت ہے خراب وہ یہ کہتے ہیں محبت کا مآل اچھا ہے ساتھ یوسف کے تجھے مصر میں گر  لے جاتے انگلیاں تیری طرف اٹھتیں یہ مال اچھا ہے تیری صورت سے میں دوں کیا مہِ کامل کو مثال اس سے سو درجہ ترا حسن و…

Read More

استاد رامپوری ۔۔۔۔ لوگ کہنے لگے منشی کا خیال اچھا ہے

کوٹھڑی ٹھیک نہ کوٹھی کا خیال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے مارچ میں عقد ہوا اور ستمبر میں طلاق کوئی بتلائے برا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ناتواں قیس ہے اب کون اسے سمجھائے ایسے حالات میں لیلیٰ کا وصال اچھا ہے بے حجابی نہیں معشوق کی فطرت اے دوست بدر سے میں تو سمجھتا ہوں ہلال اچھا ہے رات لڑنے لگے استاد سے طوفان سخن لوگ کہنے لگے منشی کا خیال اچھا ہے

Read More

فضل حسین صابر ۔۔۔ اب تو کچھ کچھ ترے بیمار کا حال اچھا ہے

سیرت اچھی ہے تری یار جمال اچھا ہے تو بہر طور بس اے نیک خصال اچھا ہے بے قراری ہے وہ اگلی سی نہ وہ دردِ جگر اب تو کچھ کچھ ترے بیمار کا حال اچھا ہے کب ترے خالِ منور سے ہیں تارے اچھے کب ترے ابروئے پر خم سے ہلال اچھا ہے ایک بوسہ پہ جو دل دیتا ہے صابر لے لو مول کم ہے‘ مگر اے جان! یہ مال اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

ماچس لکھنوی ۔۔۔۔ آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس ہاتھ اس سانپ…

Read More

رؤف رحیم ۔۔۔ ملک سے سارے غریبوں کو نکال، اچھا ہے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سے خوش فہموں کا یارو یہ خیال اچھا ہے نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے صرف نعروں سے غریبی تو نہیں مٹ سکتی ملک سے سارے غریبوں کو نکال، اچھا ہے ساتھ بیگم کے ملا کرتے ہیں دس بیس ہزار مفت کے مالوں میں سسرال کا مال اچھا ہے نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا…

Read More

نسیم نیازی ۔۔۔ آپ آ جائیں تو بیمار کا حال اچھا ہے

نہ جواب اچھا ہے، اے دل! نہ سوال اچھا ہے بس وہ جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے کون سا رنگ ہے جو اس پہ نہیں پھبتا ہے کیونکہ ہر رنگ میں وہ رنگِ جمال اچھا ہے جس طرف اٹھتی ہیں دیوانہ بنا دیتی ہیں آپ کی نظروں میں صاحب یہ کمال اچھا ہے آپ کو دیکھ کے بیمار شفا پائے گا آپ آ جائیں تو بیمار کا حال اچھا ہے میری قسمت کی لکیروں کو بدل کر مجھ سے وہ ابھی کہہ کے گئے ہیں کہ یہ…

Read More