سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں زندگی کو بھی صلہ کہتے ہیں کہنے والے جینے والے تو گناہوں کی سزا کہتے ہیں فاصلے عمر کے کچھ اور بڑھا دیتی ہے جانے کیوں لوگ اسے پھر بھی دوا کہتے ہیں چند معصوم سے پتوں کا لہو ہے فاکر جس کو محبوب کے ہاتھوں کی حنا کہتے ہیں
Read MoreMonth: 2023 اگست
اکبر الہ آبادی
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
Read Moreناطق لکھنوی ۔۔۔۔ جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیں
جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیں مگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیں مسلسل کہتے رہنا دردِ دل آنکھوں ہی آنکھوں میں زبانِ عشق میں ناطق اسے تقریر کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی ۔۔۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreمرزا غالب ۔۔۔ کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر ان سے کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں…
Read Moreفیض احمد فیض … وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں فقیہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب…
Read Moreعبدالحمید عدم
مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں
Read Moreعزیز فیصل
کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
Read Moreایک زمین…. حال اچھا ہے : تیئیس شاعر
مرزا غالب حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ…
Read Moreنامعلوم
وہ عیادت کے لئے آئے ہیں لو اور سہی آج ہی خوبیٔ تقدیر سے حال اچھا ہے
Read More