سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کے مجموعہ نعت ’’میرے حضورﷺ ‘‘پر ایک نظر سیّد محمد وجیہ السیّما عرفانی ؒ کثیر الجہات شخصیت تھے ان کی زندگی کا بڑا حصہ دین کی تبلیغ اور تصوف کے احوال و مسائل اور معاملات ومشاہدات کی تعبیرو تشریخ میں گزرا انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا اور مودات و حکالمات بھی جاری رکھا۔ میرے حضور ﷺ ،سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کا نعتیہ مجموعہ ہے اردو نعت نے گذشتہ ربع صدی میں مقدار اور معیار دونوں حوالوں سے بہت ترقی…
Read MoreMonth: 2023 اگست
نیر اقبال ہارون ۔۔۔ حضرت سیّد وجیہ السیما عرفانی چشتیؒ ۔۔۔ شخصیت اور تعلیمات
حضرت سیّد وجیہ السیما عرفانی چشتیؒ ۔۔۔ شخصیت اور تعلیمات حضرت بابا سیّد محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کا 4اکتوبر 1920ء کو تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی کے ایک گاﺅں ”لودھن“ کے ایک سیّدگھرانے میں جنم ہوا۔ آپ کے والد گرامی کا اسم گرامی حضرت سّید محمد ہادیؒ تھا۔ جو ایک بلند پایا عالم دین اور شیخ طریقت تھے۔ بابا عرفانی صاحبؒ مادرزادولی تھے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے دادا محترم حضرت حاجی فضل الدینؒ کو خواب میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے بابا حضور ؒ…
Read Moreرحیم احسن ۔۔۔ حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کی غزل گوئی
حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کی غزل گوئی شاعری ہماری زندگی کے رویوں کی عکاس ہے اس سے معاشرے اوراس کے باسیوں کے شب و روز کے موزوں یا ناموزوں ہونے کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ شاعری جہاں خوشی کی کیفیت سے دو چار کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ وہ حزن و ملال بھی پید ا کرنے کا باعث ہے ۔ شاعری نے جہاں انسانی ذہن اور شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وہاں اس نے غزل کی شکل میں…
Read Moreمہتاب رائے تاباں
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
Read Moreایک ردیف : دیکھا تھا : چار شاعر
عابد ملک میں نے لوگوں کو نہ لوگوں نے مجھے دیکھا تھا صرف اس رات اندھیروں نے مجھے دیکھا تھا پوچھتا پھرتا ہوں میں اپنا پتہ جنگل سے آخری بار درختوں نے مجھے دیکھا تھا یوں ہی ان آنکھوں میں رہتی نہیں صورت میری آخر اس شخص کے خوابوں نے مجھے دیکھا تھا اس لئے کچھ بھی سلیقے سے نہیں کر پاتا گھر میں بکھری ہوئی چیزوں نے مجھے دیکھا تھا ڈوبتے وقت بچانے نہیں آئے، لیکن یہی کافی ہے کہ اپنوں نے مجھے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رفیق راز چاندنی…
Read Moreعبدالرحمن مومن ۔۔۔ میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا
میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا تجھ کو بیتاب نہیں دیکھا تھا اس نے سیماب کہا تھا مجھ کو میں نے سیماب نہیں دیکھا تھا ہجر کا باب ہی کافی تھا ہمیں وصل کا باب نہیں دیکھا تھا چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا وہ جو نایاب ہوا جاتا ہے اس کو کم یاب نہیں دیکھا تھا ایک مچھلی ہی نظر آئی مجھے میں نے تالاب نہیں دیکھا تھا
Read Moreشاداب الفت ۔۔۔ ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا
ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا کسی کی آنکھ سے بہتا جواب دیکھا تھا لبوں سے آپ کے گر کر بکھر گئی ہوگی ہر ایک شے پہ جو رنگِ شراب دیکھا تھا ہمارے لمس نے جادو تمہارے رخ پہ کیا تبھی تو شیشے میں تم نے گلاب دیکھا تھا قریب آپ کے میں بھی کھڑا ہوا تھا کل وہی جو خاک میں لپٹا جناب دیکھا تھا
Read Moreرفیق راز ۔۔۔ چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا
چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا چاند سے بر سرِ پیکار اسے دیکھا تھا مثلِ خورشید نمودار وہ اب تک نہ ہوا آخری بار سرِ غار اسے دیکھا تھا میں بھلا کیسے بیاں کرتا سراپا اس کا شبِ یلدا پسِ دیوار اسے دیکھا تھا دل میں اتری ہی نہ تھی روشنی اس منظر کی اولیں بار تو بے کار اسے دیکھا تھا لوگ کیوں کوہ و بیاباں میں اسے ڈھونڈتے ہیں میں نے تو بر سرِ بازار اسے دیکھا تھا اس نے کیا رات کو دیکھا تھا یہ…
Read Moreعابد ملک ۔۔۔ میں نے لوگوں کو نہ لوگوں نے مجھے دیکھا تھا
میں نے لوگوں کو نہ لوگوں نے مجھے دیکھا تھا صرف اس رات اندھیروں نے مجھے دیکھا تھا پوچھتا پھرتا ہوں میں اپنا پتہ جنگل سے آخری بار درختوں نے مجھے دیکھا تھا یوں ہی ان آنکھوں میں رہتی نہیں صورت میری آخر اس شخص کے خوابوں نے مجھے دیکھا تھا اس لئے کچھ بھی سلیقے سے نہیں کر پاتا گھر میں بکھری ہوئی چیزوں نے مجھے دیکھا تھا ڈوبتے وقت بچانے نہیں آئے، لیکن یہی کافی ہے کہ اپنوں نے مجھے دیکھا تھا
Read Moreکیف مراد آبادی ۔۔۔ اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں
اہلِ دل جو بھی بات کہتے ہیں کوئی رازِ حیات کہتے ہیں ان کے غم سے ہے جاوداں‘ ورنہ زیست کو بے ثبات کہتے ہیں ہائے وہ دورِ عشق جب آنسو داستانِ حیات کہتے ہیں خوابِ غفلت میں جو گزرتا ہے ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں عشق کی اصطلاح میں غم کو انقلابِ حیات کہتے ہیں جو بھی ہیں واقفِ حقیقتِ دل دل کو ہی کائنات کہتے ہیں لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں مردِ حق میں تو ماسوا…
Read More