غزل وہ دیکھ لیں نہ مرے عجز کی اُٹھان کہیں لگا نہ دیں غمِ نو سال پر لگان کہیں تمام داغ ہوں ‘ جاؤں بھی تو کہاں جاؤں نشانِ شکر کہیں‘ زخمِ امتنان کہیں وہ میرے پاؤں تلے کی زمین کھینچ چکے گھسیٹ لیں نہ وہ سر سے اب آسمان کہیں کسے خبر کہ مہِ ہالۂ دُعا میں تھا کہیں وہ چھیڑ نہ بیٹھیں یہ داستان کہیں وہ جن کی نرم نوا ، دل کو چھید چھید گئی مجھے ملیں تو وہ کم جان و کم زبان کہیں شکیب ہو…
Read MoreMonth: 2023 ستمبر
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ رو بہ رو آ کے مجھے شکل دکھا دی اس نے
واصف سجاد ۔۔۔ دو غزلیں
اعجاز روشن ۔۔۔ سب کچھ ہے مگر کتاب کب ہے
اشرف نقوی ۔۔۔ بے نام سے اک خوف سے بھر جاتا ہوں اکثر
نوید مرزا ۔۔۔ دو غزلیں
عقیل رحمانی ۔۔۔ جنت سے ایک پل میں نکالا گیا مجھے
محمود کیفی ۔۔۔ خیالِ یار سے نکلوں تو کوئی بات کروں
احمد فراز
ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا سبھی نے وعدۂ فردا پہ ٹال رکھا ہے
Read Moreمحسن اسرار
جو بھی دیکھے وہی مشکوک نظر سے دیکھے ایک گالی ہے زمانے میں اکیلا ہونا
Read More