کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
Read MoreMonth: 2023 ستمبر
اکرم جاذب ۔۔۔ دو غزلیں
نبیل احمد نبیل ۔۔۔ زندگی یوں بسر ہوئی تیرے خیال کے بغیر
عاطف جاوید عاطف ۔۔۔ تجھے کیوں لگا ہے کہ تشنگی کو مٹا رہی ہیں یہ بارشیں
اعجاز دانش ۔۔۔ دل میں ہو چور تو سچائی سے ڈر لگتا ہے
شوکت محمود شوکت ۔۔۔ اک نظر جب مہرباں ہونے لگی
عاصم اعجاز ۔۔۔ شعور و آگہی سے ڈر رہے ہیں
علی مطہر اشعر ۔۔۔ پھر وہی سوچ کہ یہ واقعہ کب دیکھتے ہیں
غزل پھر وہی سوچ کہ یہ واقعہ کب دیکھتے ہیں کون توڑے گا فُسُوں کارئ شَب‘ دیکھتے ہیں ایک ہی جیسے سَرابوں کا تسلسل ہے کہ لوگ ایک عرصے سے سرِ دشتِ طلب دیکھتے ہیں منتظر ہیں کہ کبھی بادِ سکُوں خیز چلے مُضمَحِل ہیں کہ ہواؤں کے غضب دیکھتے ہیں مژدۂ خوبئ تعبیر ملے گا کہ نہیں دیکھیے خواب میں دیکھا ہُوا کب دیکھتے ہیں یہ بھی اِک طرزِ تکلم ہے سرِ بزم کہ ہم سب کے چہروں کی طرف مہر بہ لب دیکھتے ہیں ہم میں اِک شخص…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ چلنے لگا ہے پھر سے مرا دل رُکا ہوا
غزل چلنے لگا ہے پھر سے مرا دل رُکا ہوا کیا تُو ہے آئنے کے مقابل رُکا ہوا؟ اب اِذن دے کہ میرے لہو میں اُتر سکے طوفان ِ رنگ و بُو لب ِ ساحل رُکا ہوا تاخیر ہو نہ جائے کہیں کار ِ خیر میں چوکھٹ نہ چھوڑ دے کہیں سائل رُکا ہوا اک دائرے میں گھومتی رہتی ہے کائنات کچھ بھی نہیں یہاں، ارے غافل! رُکا ہوا آنکھوں پہ ہے چراغ ِحقیقت کی چھاؤں دھوپ عارض کی روشنی میں کہیں تِل رُکا ہوا انجام تک پہنچنے میں جلدی…
Read Moreباقی احمد پوری ۔۔۔ لپکتی آگ کا دریا یہیں سے گزرے گا
غزل ابل رہا ہے جو لاوا یہیں سے گزرے گا لپکتی آگ کا دریا یہیں سے گزرے گا نظام ِ ظلمتِ شب ختم ہونے والا ہے سنا ہے سرخ سویرا یہیں سے گزرے گا یہ سبز کھیت جنھیں ہم نے خود اجاڑ دیا ذرا سی دیر میں صحرا یہیں سے گزرے گا اسے خبر ہے کہ بزدل ہیں بستیوں والے وہ شہسوار اکیلا یہیں سے گزرے گا یہاں نہ گھر ہے نہ منزل نہ راستہ اس کا مگر وہ خاک اڑاتا یہیں سے گزرے گا قدم قدم پہ درختوں کا…
Read More