ماجد صدیقی ۔۔۔ سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے

سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے جس کا تخت…

Read More

ظفر اقبال

جہاں تہاں مرے ٹکڑے بکھرتے جاتے ہیں بُرا نہیں یہ مرا انتشار میں ہونا

Read More

صابر ظفر

جو دھوپ سے آشنا رہے ہیں وہ سائے مجھے بلا رہے ہیں

Read More

شاہین عباس

تیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ غزلیں

گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اوس ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب اب ذرا سے فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب وہ تو یوں کہیے سرِ محشر خیال آ ہی گیا ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا برق تھی گلشن کے…

Read More

محسن کاکوروی

دامن سے وہ پونچھتا ہے آنسو رونے کا کچھ آج ہی مزا ہے

Read More

محسن بھوپالی

زمانہ ساز ڈریں گردش زمانہ سے ہمارا کیا ہے ہمیں حادثوں نے پالا ہے

Read More

محسن احسان

میں اس بدن میں اتر جاؤں گا نشے کی طرح وہ ایک بار اگر پھر پلٹ کے دیکھے گا

Read More

محسن اسرار

وہ توڑ گئی طیش میں خوابوں کی قطاریں میں تھام کے بیٹھا رہا سورج کی کرن کو

Read More

وزیر آغا

اتنا نہ پاس آ کہ تجھے ڈھونڈتے پھریں اتنا نہ دور جا کہ ہمہ وقت پاس ہو

Read More