ہوں انا الصحرا ک،بھی پوچھو مجھے کیا چاہیے آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہیے اتنا سنجیدہ نہ ہو، سب مسخرے لگنے لگیں زندگی کو نیم عریانی میں دیکھا چاہیے جانتا ہوں کیوں یہ آسانی مجھے مشکل لگے طے نہ کر پاؤں کہ کس قیمت پہ دنیا چاہیے یہ رہا سامانِ دنیا، یہ رہے اسبابِ جاں کوئی بتلاؤ مجھے ان کے عوض کیا چاہیے کچھ نہیں تو اُس کے تسکینِ تغافل کے لیے ایک دن اُس یارِ بے پروا سے ملنا چاہیے یا زیاں کو سود سمجھو یا کہو سر…
Read MoreMonth: 2024 اکتوبر
ولی دکنی
ﻋﺠﺐ کچھ ﻟﻄﻒ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺷﺐِ ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻞ ﺭﺥ ﺳﻮﮞ ﺧﻄﺎﺏ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ، ﺟﻮﺍﺏ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ
Read Moreمیر تقی میر
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻼ ﮨﻮﮞ ﺟﺴﮯ ﺍﺑﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻭﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ
Read Moreخواجہ حیدر علی آتش
ﺯﻣﯿﻦِ ﭼﻤﻦ ﮔﻞ ﮐﮭﻼﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺭﻧﮓ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ
Read Moreشیخ محمد ابراہیم ذوق
ﺑﺠﺎ ﮐﮩﮯ ﺟﺴﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﮯ ﺑﺠﺎ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺯﺑﺎﻥِ ﺧﻠﻖ ﮐﻮ ﻧﻘﺎﺭۂ ﺧﺪﺍ ﺳﻤﺠﮭﻮ
Read Moreمرزا غالب
ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺛﻮﺍﺏِ ﻃﺎﻋﺖ ﻭ ﺯﮨﺪ ﭘﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ
Read Moreامیر مینائی
ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺑﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا
کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا اک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لینا ہم ہوں کہ عدو اس میں جو ظلم کا شاکی ہو کرتا ہی نہیں تم کو وہ پیار سمجھ لینا مر جائے مگر جانا اس کی نہ عیادت کو تم جس کو محبت کا بیمار سمجھ لینا بن بن کے بگڑتا ہے وہ کام محبت میں آسان نہیں جس کو دشوار سمجھ لینا غفلت کدۂ ہستی جب کہتے ہیں عالم کو سودا ہے پھر اپنے کو ہشیار سمجھ لینا محفل میں رقیبوں کی جانا…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں حنائی ہاتھ دروازے سے باہر اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علوی تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں
غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے ذہنِ ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمدؔ برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں…
Read More