پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ بکھر گئے ہیں کسی اجنبی ندا کے ساتھ ترا سوال میں اس سے کروں تو کیسے کروں مکالمہ بھی نہیں ہے مرا خدا کے ساتھ یہ دیکھتے ہی منڈیروں کے خواب ٹوٹ گئے مرے چراغ جو بجھنے لگے ہوا کے ساتھ گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ رواں ہیں کشتیاں صبحِ مراد کی جانب الجھ رہے ہیں مرے بادباں ہوا کے ساتھ
Read MoreMonth: 2024 نومبر
ناصر علی سید ۔۔۔ یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر
یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر بناتا رہتا ہوں اب تو سراب کاغذ پر مہک اُٹھی تری خوشبو سے رات تنہائی جو تیرے نام کا لکھا گلاب، کاغذ پر عجیب طرح کی تعبیر دوست کھینچتے ہیں کبھی جو بُنتا ہوں دو چار خواب کاغذ پر دکاں لگاتا ہوں زخموں کی جب بھی رات گئے اُترنے لگتے ہیں پھر ماہتاب کاغذ پر ترے جمال کی تصویر بن نہیں پاتی لکھے پڑے ہیں کئی انتساب کاغذ پر اُدھار تیری کہانی کا بھی چُکا لوں گا میں نقدِ جاں…
Read Moreڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے
عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے اس کے اندر سے مہک کیوں نہ وفا کی آئے قیمتی لوگ بہت ہم سے ہوئے ہیں رخصت اب نہ دنیا میں کوئی لہر وبا کی آئے ایک بھی شخص نہ تھا بات ہماری سنتا ہم نے مجمعے کے لیے صرف دعا کی، آئے دل تو کرتا ہے کوئی حمد کہیں، نعت کہیں جب بھی اشعار میں تاثیر عطا کی آئے کس طرح ان سے جفا کوشی تصور کر لیں جن کی جانب سے صدا مہر و وفا کی آئے کاش…
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔ لہو میں عکسِ دیرینہ کی جھلمل ڈل سے آتی ہے
لہو میں عکسِ دیرینہ کی جھلمل ڈل سے آتی ہے ہم اُس خوشبو میں رہتے ہیں جو حضرت بل سے آتی ہے کوئی آواز پیہم وقت کی اوجھل سے آتی ہے نویدِ صبحِ نصرت آنے والے کل سے آتی ہے نگہ دارِ اخوت ہیں جواں اُدھڑے ہوئے سینے یہ کیسی سرخ رو مٹی ہے جو مقتل سے آتی ہے نکل سکتے ہیں استصوابِ رائے سے کئی رستے عدو کو موت لیکن مسئلے کے حل سے آتی ہے مگر اقوامِ عالم کی گراں گوشی نہیں جاتی لہو کی چاپ ورنہ ہر…
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے
رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے شعر و سخن کمال سے آگے کی چیز ہے اے دوست تیرے عارض و رخسار کا یہ رنگ یہ لال رنگ ، لال سے آگے کی چیز ہے یہ زخم تیرے تیر یا تلوار کا نہیں یہ زخم اندمال سے آگے کی چیز ہے اک دن کسی صیّاد سے یہ صید نے کہا زلفوں کا جال ، جال سے آگے کی چیز ہے میں حسنِ لازوال بھی کیسے کہوں تجھے تْو حسنِ لازوال سے آگے کی چیز ہے دل کی دھمال اور ہی…
Read Moreفراست رضوی ۔۔۔۔ لہو میں اضطراب آئے نہ آئے
لہو میں اضطراب آئے نہ آئے یہ شب یہ ماہتاب آئے نہ آئے منا لے جشنِ نیرنگ تمنا پھر ان آنکھوں میں خواب آئے نہ آئے یہ بستی کور چشموں کی ہے بستی انھیں کیا آفتاب آئے نہ آئے ابھی بے پردہ مت کر حسن اپنا مری آنکھوں کو تاب آئے نہ آئے نکل آ گھر سے باہر پھر یہ بارش دوبارہ بے حساب آئے نہ آئے غمِ ہجراں سے آنکھیں بجھ گئی ہیں وہ چہرہ بے نقاب آئے نہ آئے ہوائے زَر نے دھندلا دی مری روح اس آئینے…
Read Moreنسیم نازش ۔۔۔ دائرہ در دائرہ
دائرہ در دائرہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہر ایک قسمت میں لکھا ہے مسلسل دائروں میں گھومتے رہنا سفر سارے سفر یونہی کٹے ہیں ہماری زندگی بھی ایک ہی مرکز کے چکر کاٹتی ہے وہ مرکز صرف تھوڑی سی محبت اور عزت اور اک نانِ جویں کی آرزو ہے کبھی جو مل نہ پائے ایک ایسے ہم سفر کی جستجو ہے میں برسوں سے کسی آندھی کے جھکڑ کی طرح اس دائرے کے رقصِ پیہم سے بہت گھبرا گئی ہوں کہ میں چکرا گئی ہوں مگر یہ تو ازل کا سلسلہ ہے…
Read Moreاشرف نقوی ۔۔۔ حمدیہ
تُو ازل سے ہے ، ابد تک ہیں زمانے تیرے جِن و انسان و ملک ، سب ہیں دِوانے تیرے تجھ کو دیکھا تو نہیں ، پھر بھی سبھی جانتے ہیں ہر حقیقت سے حقیقی ہیں فسانے تیرے تُو کہ لوٹاتا نہیں خالی کبھی بندوں کو پھر بھی ہر دم بھرے رہتے ہیں خزانے تیرے تُو ہے وہ بحر ، نہیں جس کا کنارہ کوئی اپنے بندوں کے مگر دل ہیں ٹھکانے تیرے ذرّہ ذرّہ ہے تِری حمد و ثنا میں مصروف کیسے گونجیں نہ دو عالم میں ترانے تیرے…
Read Moreعلمدار حسین ۔۔۔ ایک تو تھی شہر میں اشکوں کی ارزانی بہت
ایک تو تھی شہر میں اشکوں کی ارزانی بہت اور اس پر تھا مری آنکھوں میں بھی پانی بہت اب کے سب اچھے برے غرقاب ہوں گے ساتھ ہی اب کے سیلِ آب میں ہونی ہے طغیانی بہت مجھ کو رونے کے لیے درکار تھا شانہ کوئی تھی مگر آب و ہوا بستی کی بیگانی بہت نام لے لے کر کسی کا درد اپنے رو دیے کام میرے آئی میری مرثیہ خوانی بہت آدمی کو فرشِ غم پر کھل کے رونا چاہیے درد رو دینے سے ہو جاتی ہے آسانی…
Read Moreانور مسعود ۔۔۔ نظم (بیادِ امجد اسلام امجد)
نظم (بیادِ امجد اسلام امجد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے انور ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟ غم و اندوہ کی شِدّت نہ پوچھو یہ لگتا ہے بہت کچھ کھو گیا ہے زبانِ خلق دیتی ہے گواہی وہ جنّت کی طرف ہی تو گیا ہے رہو چُپ چاپ امجد کے سرہانے ابھی کچھ لِکھتے لِکھتے سو گیا ہے
Read More