محمد علوی ۔۔۔ شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے چپ رہنے میں اور مزا ہے کیا پایا دیوان چھپا کر لو ردی کے مول بکا ہے دروازے پر پہرہ دینے تنہائی کا بھوت کھڑا ہے گھر میں کیا آیا کہ مجھ کو دیواروں نے گھیر لیا ہے میں ناحق دن کاٹ رہا ہوں کون یہاں سو سال جیا ہے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے کوئی نہیں تو پھر یہ کیا ہے باہر دیکھ چکوں تو دیکھوں اندر کیا ہونے والا ہے ایک غزل اور کہہ لو علوی پھر برسوں تک چپ رہنا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے فضا کا رنگ نیلا ہو گیا ہے ابھی دو چار ہی بوندیں گری ہیں مگر موسم نشیلا ہو گیا ہے کریں کیا دل اسی کو مانگتا ہے یہ سالا بھی ہٹیلا ہو گیا ہے خبر کیا تھی کہ نیکی بانجھ ہوگی بدی کا تو قبیلہ ہو گیا ہے خدا رکھے جوانی آ گئی ہے گنہ بانکا سجیلا ہو گیا ہے نہ جانے چھت پہ کیا دیکھا تھا علوی بچارا چاند پیلا ہو ہے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔۔ منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں

منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں چارہ گر کیونکر نکالے دل میں پنہاں ہو گئیں ٹوٹ کر نوکیں ترے تیروں کی ارماں ہو گئیں کیا کروں جو آہیں رسوائی کا ساماں ہو گئیں مشکلیں ایسی مجھے کیوں دیں جو آساں ہو گئیں آشیاں اپنا اٹھاتے ہیں سلام اے باغباں بجلیاں اب دشمنِ جانِ گلستاں ہو گئیں میری حسرت کی نظر سے رازِ الفت کھل گیا آرزوئیں اشک بن بن کر نمایاں ہو گئیں کیا نہیں معلوم کون آیا عیادت…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا

بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا قفس میں رو دیے یہ کہہ کے ذکرِ گلشن پر کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے

شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے بڑھائیں مکر سے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا

اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔

متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹوا دئیے لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی ہم پہ احساں ہے کہ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہم بھی انھی کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے

ہم بھی انھی کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے چاہوں تو میرے ساتھ تصور میں تا قفس گلشن چلے، بہار چلے، آشیاں چلے اے راہبر یقیں جو تری رہبری میں ہو مڑ مڑ کے دیکھتا ہوا کیوں کارواں چلے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ

یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ کسی سر نگوں…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں

کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں لگاؤں چوٹ نہ کیوں میں بھی چوٹ کے بدلے قصاص میں جو مزہ ہے وہ خوں بہا میں نہیں رگوں میں دوڑتے خوں تک سے بدگمان ہیں ہم مراد یہ کہ یقیں قربتِ خدا میں نہیں نمو شجر کی نہ ڈھونڈو برستے ژالوں میں کہ مسئلے کا جو حل ہے فقط سزا میں نہیں ترے سخن میں چبھن جس طرح کی ہے ماجد کسک یہ اور کسی بھی غزل سرا میں نہیں

Read More