سلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین

سلام غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی…

Read More

افتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت

گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…

Read More

سلام ۔۔۔ توقیر تقی

سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…

Read More

سلام ۔۔۔ منیر سیفی

کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ

ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے

یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے مان بھی لیں، ممکن ہے، قدم اپنے ہی غلط ہوں دُور نکل آئے ہیں بہت، اب لوٹا جائے کھوج میں شاید شرط یہی، بار آور ٹھہرے اور ذرا گہرے پانی میں، اُترا جائے دریا میں کھُر جائے گھڑا کھُر جانے والا ٹھہرا ہو جو عہد وہ عہد نہ توڑا جائے مژدۂ عید سنانے والا چاند، ہمیشہ بعد برس کے، پھر چاہت سے دیکھا جائے

Read More

صبا اکبر آبادی ۔۔۔ جو ہمارے سفر کا قصہ ہے

جو ہمارے سفر کا قصہ ہے وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے صبح تک ختم ہو ہی جائے گا زندگی رات بھر کا قصہ ہے دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے کوئی تلوار کیا بتائے گی دوش کا اور سر کا قصہ ہے ہوش آ جائے تو سناؤں گا چشمِ دیوانہ گر کا قصہ ہے چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی صرف سمتِ سفر کا قصہ ہے جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا زندگی، عمر بھر کا قصہ ہے…

Read More

فراق گورکھپوری ۔۔۔ وقت غروب آج کرامات ہو گئی

وقت غروب آج کرامات ہو گئی زلفوں کو اس نے کھول دیا، رات ہو گئی کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی اے سوزِ عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلفِ شکن شکن ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی صبر آ گیا…

Read More

تابش مہدی ۔۔۔ بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا جوانوں کو جو درسِ بزدلی دیں کبھی ہونٹوں پہ وہ قصے نہ رکھنا اگر پھولوں کی خواہش ہے تو سن لو کسی کی راہ میں کانٹے نہ رکھنا کبھی تم سائلوں سے تنگ آ کر گھروں کے بند دروازے نہ رکھنا پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا نہیں ہے گھر میں مال و زر تو کیا غم وراثت میں مگر قرضے نہ رکھنا رئیسِ شہر کو میں جانتا ہوں کوئی امید…

Read More