جلی امروہی … ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﻣﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﭘﺲِ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻗﺮﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮑﺘﻮﺏ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﺱ ﺗﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻠﺦ ﺍﺷﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻻﺯﻣﮧ ﻗﻄﻊِ ﻣﺮﺍﺳﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﯾﮧ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﻝ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺁ ﮔﺌﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﻮﺯﻭﮞ ﺗﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻟﻔﺖ ﮐﮯ ﻟیے ﺯﺭ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯽؔ ﮐﺎﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ

Read More

شاہد اشرف ۔۔۔ اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا

اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا پانی پیتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں جتنا ضائع ہوا اتنا بھی میسّر نہیں تھا آگے جانے کے لیے شرط تھی بیعت کر لو واپسی کے لیے رستہ بھی میسّر نہیں تھا اس گھرانے سے زمانے کو شفا ہے جس کے ایک بیمار کو پُرسا بھی میسّر نہیں تھا ساتھ اُس وقت دیا ابنِ علی کا حُر  نے جب عداوت کا سلیقہ بھی میسّر نہیں تھا جن سے دنیا کو ملا سایۂ رحمت…

Read More

غلام محمد قاصر ۔۔۔ یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خطِ کربلا بناتا ہے یزید موسمِ عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاکِ شفا بناتا ہے یزید کاخِ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حُسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے حسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے

Read More

ارشد حسین ۔۔۔ سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا

سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا ٹھہرا ہوا ہے آنکھ میں نم اہلِ بیت کا پاکی پہ ان کی آیۂ تطہیر ہے گواہ کرب و بلا سے لے کے حرم اہلِ بیت کا وارث ہیں اہلِ بیتِ مطہّر بہشت کے کرتے ہیں ذکر شاہِ امم ﷺ ، اہلِ بیت کا ان پر درود بھیجنا سنت خدا کی ہے بھرتے فرشتگاں بھی ہیں دم اہلِ بیت کا وقتِ وداع لب پہ تبسم کِھلا ہوا دیکھے تو کوئی جاہ و حشم اہلِ بیت کا کربل کے امتحاں میں سبھی سرخرو…

Read More

سید مقبول حسین ۔۔۔ کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں

کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر…

Read More

سید قاسم جلال ۔۔۔ رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے

رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے ڈھونڈتا ہوں میں جسے ، وہ کون سی محفل میں ہے خوں ابھی کافی رگِ جانِ تنِ بسمل میں ہے ’’دیکھتے ہیں زور کتنا، بازوئے قاتل میں ہے‘‘ ہے تحرک اور تموّج ہی سے دریا کی شناخت خامشی شہرِ خموشاں کی ، اگر ساحل میں ہے جانے کب پہنچیں گے قاتل ، کیفرِ کردار تک خونِ مقتولاں ، تلاشِ منصفِ عادل میں ہے اس جہاں میں پائے جنّت اور ہو وہ دائمی محو ، انساں آج تک ، اس…

Read More

رشید آفرین ۔۔۔ شوقِ منزل لیے چلو تنہا

شوقِ منزل لیے چلو تنہا رہ گزر کو سنوار دو تنہا ہر مصیبت میں تم رہو تنہا ظلم جو بھی ہو وہ سہو تنہا وقت کی تند و تیز آندھی میں جل سکو گر تو ہاں ! جلو تنہا گر زباں میں ہو شعلۂ فطرت بات جب بھی کہو ، کہو تنہا آرزو کا چمن مہک اُٹھے کبھی تنہائی میں ملو تنہا کوئی پوچھے تو حال اُس دِل کا جو بھری بزم میں بھی ہو تنہا آفریں کون ساتھ دیتا ہے زندگانی کے سانس لو تنہا

Read More

سید قاسم جلال ۔۔۔ کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش

کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا ہے تاجِ فضیلت…

Read More

اظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت

منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟ اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت پھر ہم بھی مان لیں…

Read More

اظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک

مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…

Read More