استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس  کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…

Read More

ظفر اقبال

آخر کو اس غبار نے غائب کیا ہمیں کس کاروبارِ خاک پہ اپنا اجارہ ہے

Read More

محسن اسرار

آوازہ کوئی کستا ہے ہم پہ تو کسے جائے کب ہوش میں رہتا ہے کوئی گھر سے نکل کے

Read More

شیخ امداد علی بحر

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے ان کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

Read More

لالہ مادھو رام جوہر

آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا

Read More

آنس معین

آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے

Read More

آنس معین

تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا

Read More

آنس معین

میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی

Read More

ظہیر کاشمیری

آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں اتفاقاً دو چراغوں کی لویں ٹکرا گئیں

Read More

مظفر حنفی

آنگن میں یہ رات کی رانی سانپوں کا گھر کاٹ اسے کمرہ البتہ سونا ہے کونے میں گلدان لگا

Read More