انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read MoreCategory: آ
ظفر اقبال
آخر کو اس غبار نے غائب کیا ہمیں کس کاروبارِ خاک پہ اپنا اجارہ ہے
Read Moreمحسن اسرار
آوازہ کوئی کستا ہے ہم پہ تو کسے جائے کب ہوش میں رہتا ہے کوئی گھر سے نکل کے
Read Moreشیخ امداد علی بحر
آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے ان کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے
Read Moreلالہ مادھو رام جوہر
آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا
Read Moreآنس معین
آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے
Read Moreآنس معین
تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا
Read Moreآنس معین
میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی
Read Moreظہیر کاشمیری
آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں اتفاقاً دو چراغوں کی لویں ٹکرا گئیں
Read Moreمظفر حنفی
آنگن میں یہ رات کی رانی سانپوں کا گھر کاٹ اسے کمرہ البتہ سونا ہے کونے میں گلدان لگا
Read More