سلام بحضور شہدائے کربلا . میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام . ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام . برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام . ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام . سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام…
Read MoreCategory: سلام
سلام ۔۔۔ توقیر تقی
سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…
Read Moreنذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! ۔۔۔ رحمان فارس
نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسین کا ہے ؟ فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ہے !!! کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ہے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حُسَین کا ہے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ہے یا حُسَین کا ہے ذراسا غور سے دیکھو اُفق کی سُرخی…
Read Moreسلام ۔۔۔ منیر سیفی
کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…
Read Moreمحرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ۔۔۔۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، ترجمہ: رئیس امروہوی
” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ اشک آباد ” کے ایک طویل مرثیے سے اقتباسات
(3) مطلعِ دوم جب دشتِ کربلا میں دہم کی سحر ہوئی شرقی ورق پہ سطرِ خفی مشتہر ہوئی شمشیرِ سُرمہ سا سپرِ مہ کے سَر ہوئی گویا کہ درپئے شہِ جنّ و بشر ہوئی انصار اٹھ کھڑے ہوئے فرضِ نماز کو دیکھا تیمّمِ شہِ والا حجاز کو صیقل کچھ اور ہو گئے آئینہ رو تمام مٹّی سے تھے اَٹے ہوئے شب رشک مُو تمام اُن کے طواف میں تھے ادھر مشک و بُو تمام باہم جُھکے تھے سجدے میں فرق و گُلو تمام تسبیح میں چُنے ہوئے دارالسّلام کے سب…
Read Moreراشد عارف
علی کے لعل ، محمد کے چین زندہ باد سلام تجھ پہ شہِ مشرقین زندہ باد یزید آتا رہے گا ہر اک زمانے میں زمانہ کہتا رہے گا حسین، زندہ باد
Read Moreافتخار عارف ۔۔۔ صدائے استغاثہ
صدائے استغاثہ ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز سنائی دی تھی جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی بازگشت ہے اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا سامان کیا جاتا ہے اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا جاتا ہے تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے اچھے اچھے…
Read Moreادیب رائے پوری ۔۔۔ آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آیا نہ ہو گا اس طرح رنگ و شباب ریت پر گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے ایک سے بڑھ کے اِک دیا سب نے جواب ریت پر عشق میں کیا لُٹائیے عشق میں کیا بچائیے آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر تَرسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب لمسِ لبِ حسین کو ترسا ہے آب ریت پر…
Read More