فراست رضوی ۔۔۔ رباعیات

بچپن کے مکانات بھی مٹ جاتے ہیں اسکول بھی باغات بھی مٹ جاتے ہیں شہروں میں نئے شہر جو ہوتے ہیں طلوع ماضی کے نشانات بھی مٹ جاتے ہیں ……………… گیتی پہ ستاروں نے لگایا پھیرا خالق کی ثنا کرنے لگا دل میرا ساون کی سیہ رات میں دیکھا میں نے شاخوں پہ شجر کی جگنوؤں کا ڈیرا ……………… لفظوں میں صداقت کا یہ جوہر نہ ملا اسلوب کی ندرت کا یہ منظر نہ ملا کیا شوکتِ اظہار ہے، کیا ندرتِ فکر اقبال سا کوئی بھی سخنور نہ ملا …………………

Read More

اشرف نقوی ۔۔۔ حمدیہ

تُو ازل سے ہے ، ابد تک ہیں زمانے تیرے جِن و انسان و ملک ، سب ہیں دِوانے تیرے تجھ کو دیکھا تو نہیں ، پھر بھی سبھی جانتے ہیں ہر حقیقت سے حقیقی ہیں فسانے تیرے تُو کہ لوٹاتا نہیں خالی کبھی بندوں کو پھر بھی ہر دم بھرے رہتے ہیں خزانے تیرے تُو ہے وہ بحر ، نہیں جس کا کنارہ کوئی اپنے بندوں کے مگر دل ہیں ٹھکانے تیرے ذرّہ ذرّہ ہے تِری حمد و ثنا میں مصروف کیسے گونجیں نہ دو عالم میں ترانے تیرے…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ہائیکو

ہائیکو ۔۔۔۔۔۔۔ میرے سرہانے پر صبح سویرے رکھتا ہے کون گلاب کا پھول؟ …………… کس نے غور کیا ! اندر کے سنّاٹوں نے کتنا شور کیا …………… حُسن کا جب طلسم ٹوٹ گیا وقت کی صرف ایک جنبش سے سنگِ مر مر کا جسم ٹوٹ گیا …………… پیار کے یہ سنجوگ دامن میں بھر دیتے ہیں کیسے کیسے روگ !

Read More

انور مسعود ۔۔۔ قطعات (بیادِ امجد اسلام امجد)

قطعات (بیادِ امجد اسلام امجد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہم کو دے گیا داغِ جدائی وہ خوشبو دار لفظوں کا لکھاری کرشمے ہیں کئی اُسکے ہُنر کے ڈرامہ، شاعری ، کالم نگاری …………… مجھے رہ رہ کے یاد آتا ہے یارو غمگُسار اپنا کچھ ایسا ہے کہ آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے بڑی بے رونقی سی ہے ادب کے شہر میں برپا بڑی شِدّت سے امجد کی کمی محسوس ہوتی ہے

Read More

فراق گورکھپوری

ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے

Read More

اکبر الہ آبادی ۔۔۔ رباعی

بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رباعیات

مرنا ہے تو بے موت نہ مرنا بابا دم سادھ کے اس پُل سے گزرنا بابا سنتے ہیں کہ ہے موت سفر کا وقفہ اس پار ذرا بچ کے اترنا بابا ۔۔۔ موتی نہ تھے دریا میں تو ہم کیا کرتے آنسو ہی نہیں آنکھ میں غم کیا کرتے ہاتھ آوے کھوکھلے لفظوں کے صدف گہرائی کی رُوداد رقم کیا کرتے ۔۔۔ تقدیر پہ الزام نہیں دھر سکتے خاکے میں سیہ رنگ نہیں بھر سکتے ہر لوح پہ تحریر کہ جینا ہے حرام آواز لگا دو کہ نہیں مر سکتے…

Read More

اے ڈی اظہر ۔۔۔ وزیر کی دوسری شادی

کراچی میں کمر باندھے ہوئے سب یار بیٹھے ہیں بیاہے جا چکے، اک بار پھر تیار بیٹھے ہیں جسے دیکھو وہی ہے دوسری بیوی کے چکر میں غنیمت ہے موحد جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں نہ چھیڑ اے شیخ ہم یوں ہی بھلے چل راہ لگ اپنی تجھے تو بیویاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں نہ کر لیں چار جب تک شیخ جی کیوں دم لگیں لینے وہ دو کر کے بھی کہتے ہیں کہ ہم بے کار بیٹھے ہیں کہاں اب چین گھر کا جب سے بیوی…

Read More