جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ ہو، خلوت میں ہے جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا دل کشی کس درجہ، اے دنیا! تری صورت میں ہے اف نکل جاتی ہے، خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے نور کا تڑکا ہے، دھیمی ہو چلی ہے چاندنی ہل رہا ہے…

Read More

نجیب احمد

موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی

Read More

ادا جعفری

ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

Read More

راحت اندوری

بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے

Read More