انصر منیر ۔۔۔ ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا

ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا قید ہوتا گیا ترے دل میں دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا میں نے پرکھا تھا بار بار اسے مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا دائروں کا سفر ہی کرنا تھا مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد

اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام کے بعد توڑ دیتی ہیں خموشی کو چہکتی چڑیاں بولنے لگتے ہیں چپ چاپ شجر شام کے بعد اُس کو خورشید نظر تک نہیں آنے دیتا مرکزِ دید ٹھہرتا ہے قمر شام کے بعد بھول جاتی ہے اُنھیں خلق ضرورت کے بغیر یاد آتا ہے چراغوں کا ہُنر شام کے بعد راستہ کون دکھاتا ہے اندھیرے میں اسے کس طرح ڈھونڈتی ہے فاختہ گھر شام کے بعد پھول اُجلے سے کھلائے ہیں فلک پر…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے

اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علوی کیا ہمیں بات بنانی آئے

Read More