ہر حرف ہے مانند ِزمُرَّد روشن تشدید و زیر و زبر و مَد روشن اوصاف و محامدِ محمدؐ سے ہوا عالم عالم چراغِ اَبجد روشن
Read MoreTag: اردو شاعری
قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت
خالد علیم کی نعت خالد علیم کی نعت میں جذبے، علم اور ریاضتِ فنی کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جو عجلت کے اس دور میں بہت کم یاب ہے۔ یہ ریاضتِ فنی ان کے ہاں حسب کے علاوہ نسب کا درجہ بھی رکھتی ہے کہ جس گھر سے ’’شاہنامہ بالاکوٹ‘‘ اور’’ طلع البدر علینا‘‘ کا طلوع ہوا ہو، اتنی ریاضت تو اس کی فضا میں رچی ہوئی ہوتی ہے۔ ’’محامد‘‘ میں گو بیش تر انحصار قصیدہ و غزل ہی کی ہیئت پر رہا ہے تاہم مسدس، آزاد نظم اور…
Read Moreپروفیسرجعفر بلوچ ۔۔۔ خالد علیم کا نغمۂ محامِد
خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری…
Read Moreسجاد بلوچ ۔۔۔ دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ
دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ آ گئی رات اٹھانے مرا ڈھلتا سایہ تم نے اچھّا ہی کیا چھوڑ گئے ، ویسے بھی ایک سائے سے بھلا کیسے سنبھلتا سایہ میں وہی ہوں مرا سایہ بھی وہی ہے اب تک میں بدلتا تو کوئی رنگ بدلتا سایہ میں نے اس واسطے منہ کر لیا سورج کی طرف مجھ سے دیکھا نہ گیا آگے نکلتا سایہ میرا حاسد مرا ہمزاد نہیں ہو سکتا مجھ سے جلتا تو مرے ساتھ نہ چلتا سایہ آج بھی بیٹھا ہوں گم صم پسِ…
Read Moreشمشیر حیدر
کِھلا ہوا بھی یہاں دیکھتی بہار مجھے مگر ملا نہیں ماحول سازگار مجھے
Read Moreقمر رضا شہزاد
کوئی بھی کام نہ دل سے کبھی کیا شہزاد یہاں تو ہم نے محبت بھی اختیاری کی
Read Moreعباس تابش
تیرا سورج کے قبیلے سے تعلق تو نہیں یہ کہاں سے تجھے آیا ہے سبھی کا ہونا
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے
سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے کونین ہے اک لرزشِ صہبا مرے آگے ہر نجم ہے اک عارضِ روشن مرے نزدیک ہر ذرہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگے ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میں ہر گام ہے گلگشتِ مصلےٰ مرے آگے ہر پھول ہے لعلِ شکر افشاں کی حکایت ہر غنچہ ہے اک حرفِ تمنا مرے آگے اک مضحکہ ہے پرسشِ عقبیٰ مرے نزدیک اک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگے ہوں کتنی ہی تاریک شبِ زیست کی راہیں اک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے…
Read Moreمحسن اسرار
مضافاتی ہوں پھر بھی سوچتا ہوں نہ جانے شہر میں کیا ہو رہا ہے
Read More