محمد اظہارالحق ۔۔۔ سبطِ رسول کے حضور

سبطِ رسول کے حضور بہت سے راستوں میں تو  نے جو رستہ چنا تھا فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا بہت سے شہر رہنے کے لیے حاضر تھے لیکن ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صحرا چنا تھا جو پیچھے آرہے تھے ان سے تو غافل نہیں تھا کہ تو نے راستے کا ایک اک کانٹا چنا تھا جہاں میں کون تھا دوشِ نبی تھا جس کا مرکب اسی خاطر برہنہ پائی نے تجھ سا چنا تھا زمانہ جانتا ہے کون تھا جو پار اترا کہ تو نے…

Read More

فیصل ہاشمی ۔۔۔ بنا کے عرشِ معلٰی، نماز پڑھتا ہے

بنا کے عرشِ معلی، نماز پڑھتا ہے امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے سوار گرتے رہے ٹوٹتی رہی تسبیح بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے وضو کرایا گیا خاک و خون سے جس کو اسی کے ساتھ زمانہ نماز پڑھتا ہے شریک ہوتا ہوں ماتم میں با وضو ہو کر یہ جسم سارے کا سارا نماز پڑھتا ہے ہماری آنکھ میں فیصل فرات بہتا ہے جہاں شہید کا لاشہ نماز پڑھتا ہے

Read More

علی زریون ۔۔۔ ہلالِ ماہِ مُحرّم طلوع کیا ہُوا ہے

ہلالِ ماہِ مُحرّم طلوع کیا ہوا ہے ہر ایک دل میں بپا سوزِ کربلا ہوا ہے رضائے یار پہ کون اِس طرح فدا ہوا ہے فقط حُسین ، حُسین ابنِ مرتضیٰ ہوا ہے جنابِ من یہ عقیدت نہیں، عقیدہ ہے حُسین صبر کا انمول معجزہ ہوا ہے ترے سوال کی برچھی اُتر گئی دل میں تُو پوچھتا ھے کہ کربل میں ایسا کیا ھُوا ہے ؟؟؟ دلِ نبی سے کبھی پوچھ کربلا بارے تری نظر میں تو بس ایک واقعہ ہوا ہے جو صبر وادیٔ طائف میں بھی نہیں ٹوٹا…

Read More

ارشد حسین ۔۔۔ سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا

سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا ٹھہرا ہوا ہے آنکھ میں نم اہلِ بیت کا پاکی پہ ان کی آیۂ تطہیر ہے گواہ کرب و بلا سے لے کے حرم اہلِ بیت کا وارث ہیں اہلِ بیتِ مطہّر بہشت کے کرتے ہیں ذکر شاہِ امم ﷺ ، اہلِ بیت کا ان پر درود بھیجنا سنت خدا کی ہے بھرتے فرشتگاں بھی ہیں دم اہلِ بیت کا وقتِ وداع لب پہ تبسم کِھلا ہوا دیکھے تو کوئی جاہ و حشم اہلِ بیت کا کربل کے امتحاں میں سبھی سرخرو…

Read More

سید مقبول حسین ۔۔۔ کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں

کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر…

Read More

سید قاسم جلال ۔۔۔ رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے

رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے ڈھونڈتا ہوں میں جسے ، وہ کون سی محفل میں ہے خوں ابھی کافی رگِ جانِ تنِ بسمل میں ہے ’’دیکھتے ہیں زور کتنا، بازوئے قاتل میں ہے‘‘ ہے تحرک اور تموّج ہی سے دریا کی شناخت خامشی شہرِ خموشاں کی ، اگر ساحل میں ہے جانے کب پہنچیں گے قاتل ، کیفرِ کردار تک خونِ مقتولاں ، تلاشِ منصفِ عادل میں ہے اس جہاں میں پائے جنّت اور ہو وہ دائمی محو ، انساں آج تک ، اس…

Read More

رشید آفرین ۔۔۔ شوقِ منزل لیے چلو تنہا

شوقِ منزل لیے چلو تنہا رہ گزر کو سنوار دو تنہا ہر مصیبت میں تم رہو تنہا ظلم جو بھی ہو وہ سہو تنہا وقت کی تند و تیز آندھی میں جل سکو گر تو ہاں ! جلو تنہا گر زباں میں ہو شعلۂ فطرت بات جب بھی کہو ، کہو تنہا آرزو کا چمن مہک اُٹھے کبھی تنہائی میں ملو تنہا کوئی پوچھے تو حال اُس دِل کا جو بھری بزم میں بھی ہو تنہا آفریں کون ساتھ دیتا ہے زندگانی کے سانس لو تنہا

Read More