کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا ہے تاجِ فضیلت…
Read MoreTag: شاعر
اظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت
منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟ اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت پھر ہم بھی مان لیں…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر
نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…
Read Moreوسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…
Read Moreعنبرین عنبر راجپوت ۔۔۔ تیرے جانے کا غم نہیں کرتے
تیرے جانے کا غم نہیں کرتے تیری یادوں کو کم نہیں کرتے ہاتھ پکڑا ہے ساتھ چلنے کو تجھ کو مجبور‘ ہم نہیں کرتے رات بھر دل اگرچہ رویا بہت پھر بھی آنکھوں کو نم نہیں کرتے تیری چُپ سے یہ جاگتے ارماں شور اتنا‘ صنم! نہیں کرتے تیری چاہت کو بھولنا چاہے اپنے جی پر ستم نہیں کرتے روک لیتے ہیں اشک پلکوں پر تیرے قصے رقم نہیں کرتے تم سے بڑھ کر ہو پیار اوروں سے ہم کو تیری قسم، نہیں کرتے
Read Moreتاثیر نقوی ۔۔۔ عشق کی پھر سے داستاں لکھوں
عشق کی پھر سے داستاں لکھوں ان بہاروں کو میں خزاں لکھوں قدرِ انساں بدل رہی ہے یہاں کیوں زمیں کو میں آسماں لکھوں چھا گئے ہیں جہاں پہ سناٹے کس طرح حالِ بے اماں لکھوں ظلم اور جبر ہر طرف ہے یہاں کیسے انساں کی داستاں لکھوں ہو گیا ہے لہو لہو گلشن زندگی کو میں خونچکاں لکھوں قتل ارمان کا ہوا ہے جہاں اُس کو میں کیسے گُلستاں لکھوں کاٹے کٹتی نہیں یہ تنہائی ہجر کو کس کی میں زباں لکھوں میرا وجدان جگمگا اُٹھے جب مکاں کو…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے
قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے اور آسماں کی حاشیہ آرا زمین ہے دستِ کرشمہ ساز کے جو ہاتھ میں ہے گیند خشکی تری کا گویا کہ گولا زمین ہے عرشِ بریں کہ تخت سا بہتا تھا آب پر پھر اوج سے فراز نے بولا زمین ہے نقش و نگار کھینچ کے لوحِ دوام پر خاکہ سا کیسا خاک بنایا زمین ہے مٹی جو اپنی خاک اڑانے لگی تو پھر گردوغبارِ طور نے جانا زمین ہے بُرجوں کا کھیل جاری و ساری ہے اک طرف ردوبدل میں گھومتا چرخا زمین…
Read Moreاعجاز دانش ۔۔۔ لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے
لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے ہتھیلی پر دیا رکھا ہوا ہے قیامت ہے کسی کو بھول جانا مگر یہ فیصلہ اچھا ہوا ہے نہیں مجنوں کا اب کوئی مقلد مزاجِ عاشقاں بدلا ہوا ہے مسافر لوٹ کر گھر آگئے ہیں ہر اک چہرہ مگر اُترا ہوا ہے کسی سہمے ہوئے بچے کی صورت پرندہ پیڑ سے لپٹا ہوا ہے ترا غم بھی مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مہمان گھر آیا ہوا ہے مری تشنہ لبی دھوکہ نہ کھائے وہ بادل ہے مگر برسا ہوا ہے ہمارا دل بھی اب اعجاز…
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی
کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
Read More