کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے
Read MoreTag: اردو
صفی لکھنوی … غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سن کے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا
Read Moreصفی لکھنوی
دل میں سکت نہ بوند لہو کی جگر ہے نالے کی سادگی کہ فریبِ اثر میں ہے
Read Moreصفی لکھنوی
فرقتِ میں مہِ نَو کی تنویر نظر آئی محوِ خم ابر کو شمشیر نظر آئی
Read Moreصفی لکھنوی
سوادۓ زلیخا کی تصویر نظر آئی پاۓ مہِ کنعاں کی زنجیر نظر آئی
Read Moreفراغ روہوی
یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں
Read Moreفراغ روہوی
کون آتا ہے عیادت کے لیے دیکھیں فراغؔ اپنے جی کو ذرا ناساز کیے دیتے ہیں
Read Moreفراغ روہوی
سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
Read Moreحسن اکبر کمال … ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا
ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…
Read Moreفراغ روہوی
مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے غریبی کا کھرا سونا چمکتا ہے
Read More