علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔ بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں

بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں کچھ ایسا کرب تھا اُس شخص کی کہانی میں کمر خمیدہ ہیں حالاتِ نا مساعد سے ضعیف ہونے لگے لوگ نو جوانی میں کوئی چراغ نہ جلنے دیا خرابوں میں ہوا تھی تیرگیِ شب کی حکمرانی میں خیال بہتے رہے اس میں خاروخس کی طرح گذشتہ شب کہ تھا دریا بڑی روانی میں امیرِ وقت! کبھی خود ملاحظہ فرما گداگروں کے اضافے کو راجدھانی میں وہ سو گیا تو بہر سمت خاک اڑنے لگی جو فرد خاص تھا گلشن کی پاسبانی میں…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔۔ نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں

نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں فصیلیں گر گئیں ہیں، در کھڑے ہیں پسِ منظر کوئی طوفان ہوگا کہ دم سادھے ہوئے منظر کھڑے ہیں ہمیں نے اس کے ترکش کو بھرا تھا مگر ہم بھی نشانے پر کھڑے ہیں سُنا ہے آج وہ باتیں کرے گا سماعت کے لیے پتھر کھڑے ہیں بہت سے سر کشیدہ دار پر ہیں جو باقی ہیں خمیدہ سر کھڑے ہیں ہم اپنا قد بڑھا کر کیا کریں گے غنیمت ہے کہ پیروں پر کھڑے ہیں ہزراروں لوگ میخانے میں اشعر امیدِ قطرہ ء مئے…

Read More

سید علی مطہر اشعر

پھر لختِ جگر کوئلہ لے آیا کہیں سے اب دیکھیے کیا کیا سرِ دیوار بنے گا

Read More

میر وزیر علی صبا لکھنوی

لا کر کسی نے پھول جو رکھے ہیں ہجر میں کانٹے بچھا دیے ہیں ہمارے پلنگ پر

Read More

میر شیر علی افسوس … جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا

جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا جب کہیں اپنا دل لگائیے گا ہم نے جانا کہ شمع رُو ہیں آپ پر ہمیں کب تلک جلائیے گا مَیں تو جی دینے پر بھی حاضر ہوں کیا مجھے آپ آزمائیے گا رات جاتی ہے اپنی زلفوں کو مکھڑے پر کب تلک بنائیے گا ق کل ہے جی میں کہ جا کے اس کے پاس رو کے احوالِ دل سنائیے گا خواہ وہ مہرباں ہو خواہ نہ ہو اپنا دکھ درد سب جتائیے گا کر کے غیروں سے ربط، اے صاحب! کب تک…

Read More

میر شیر علی افسوس

اُس کے اُٹھتے ہی جی پہ آن بنی دیکھیے آگے آگے کیا ہو گا

Read More