خلاء ۔۔۔۔ خود فریبی کا اِک بہانہ تھا آج اُس کا فسوں بھی ٹوٹ گیا آج کوئی نہیں ہے دور و قریب آج ہر ایک ساتھ چھوٹ گیا چند آنسو تھے بہہ گئے وہ بھی دل میں اِک آبلہ تھا، پھوٹ گیا اب کوئی صبح ہے نہ کوئی شام روشنی ہے نہ تیرگی ہے کہیں اُس کا غم تھا تو کتنے غم تھے عزیز وہ نہیں ہے تو آسماں نہ زمیں ہر طرف ایک ہو کا عالم ہے سوچتا ہوں کہ مَیں بھی ہوں کہ نہیں
Read MoreTag: علی
محمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔۔ آسماں یا زمیں طواف کرے
آسماں یا زمیں طواف کرے جو جہاں ہے وہیں طواف کرے کعبہء عشق بے نیاز سہی دِل تو اپنے تئیں طواف کرے رنگ اُس کا طواف کرتے ہیں جب کوئی مہ جبیں طواف کرے طائرِ خوش نوا ہو نغمہ سرا اور حرم کا مکیں طواف کرے اُس گماں سے ہمیں ہے نسبتِ عشق جس گماں کا یقیں، طواف کرے ریت چھلکائے زمزمے مختارؔ جب وہ صحرا نشیں طواف کرے
Read Moreتنہا تنہا …… حمایت علی شاعر
تنہا تنہا …….. میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ۔۔۔آسماں اس جہاں…
Read Moreعلی ارمان ۔۔۔۔۔ جس روز شاعری کی خوشی ختم ہو گئی
جس روز شاعری کی خوشی ختم ہو گئی سمجھو کہ زندگی بھی مری ختم ہو گئی اے شہر! مَیں نہ کہتا تھاجانے دے دشت میں لے آخری سڑک بھی تری ختم ہو گئی یادوں کے آسماں پہ پرندوں کی اک قطار آہستگی سے چلتی ہوئی ختم ہو گئی آنسو تمھاری آنکھ میں دیکھوں گا کس طرح یہ سوچنے میں دل کی گلی ختم ہو گئی آج ایک خواب جاگتے میں لے اُڑا مجھے اُمید کی میانہ روی ختم ہوگئی اے زُلفِ زندگی! ترے بست وکشاد میں ہم سادگاں کی سادہ…
Read Moreمحمد مختار علی
دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی
Read Moreسید علی مطہر اشعر
دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی
دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی ریت پر بیٹھ کے پانی کی نمائش نہیں کی وقت ہر چیز کو مٹی میں ملا دیتا ہے اِس لیے ہم نے جوانی کی نمائش نہیں کی چاند کو گھر سے نکلنے میں جو تاخیر ہوئی رات نے رات کی رانی کی نمائش نہیں کی دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی اِک غزل لکھ کے بہا دی ہے ندی میں مختارؔ پر طبیعت کی رَوانی کی نمائش نہیں کی
Read Moreسید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں
بستر پر کانٹوں کا بستر کر دیتے ہیں اندیشے دیواروں میں دَر کر دیتے ہیں دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں غزلوں میں اظہارِ حقیقت ہوتا ہے لوگوں کو حالات سخن ور کر دیتے ہیں ایسے لوگوں میں ہے بود و باش میری جو لفظوں کو ناوک و نشتر کر دیتے ہیں جب میں اُن کا اسمِ گرامی لیتا ہوں وہ میرے حالات کو بہتر کر دیتے ہیں جو باتیں سینوں میں چبھتی رہتی ہیں ہم اشعر شعروں میں اجاگر کر…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ عشاق بھی کیا نِت نئے آزار خریدیں
عشاق بھی کیا نِت نئے آزار خریدیں اِک غم کی ضرورت ہو تو بازار خریدیں آباد ہے شہروں سے تو ویرانہ ہمارا ! دو دِن کے لیے کیا در و دیوار خریدیں دَستار کو جو ڈھال سمجھتے ہیں وہ سمجھیں ! سَر جن کو بچانا ہے وہ تلوار خریدیں گویائی کی قیمت پہ خریدیں تری آواز ! آنکھوں کے عوض ہم ترا دیدار خریدیں دِن بھر تو بَدن دھوپ میں چُپ چاپ جلائیں پھر شام ڈھلے سایۂ دیوار خریدیں اِک بِھیڑ غلاموں کی وہاں دیکھتی رہ جائے محشر میں مجھے…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔ زباں کے سخت مگر دِل کے پیارے ہوتے ہیں
زباں کے سخت مگر دِل کے پیارے ہوتے ہیں ذرا ذرا سے منافق تو سارے ہوتے ہیں! تم اپنی رائے بدلنے میں حق بجانب ہو ہر آدمی نے کئی روپ دھارے ہوتے ہیں انھیں کی جیت کا اعلان وقت کرتا ہے محبتوں میں بظاہر جو ہارے ہوتے ہیں گر آسماں کی بلندی سے دیکھئے مختارؔ زمیں پہ چلتے دیئے بھی ستارے ہوتے ہیں
Read More