کیا تھا استخارہ، سو گیا تھا کنارے پر مَیں پیاسا سو گیا تھا مری آنکھوں میں تھا وہ خوابِ راحت مرے قدموں میں رستا سو گیا تھا چٹانوں پر گزاری رات مَیں نے مری کشتی میں دریا سو گیا تھا تھکن کس کی تھی، کس کو نیند آئی مرے سینے پہ صحرا سو گیا تھا مَیں اُس دن فرش پر سویا سکوں سے مرے بستر پہ بیٹا سو گیا تھا یہ بستی رات بھر جاگی تھی اُس دن کہانی کہنے والا سو گیا تھا سبھی کے چاند تھے بے دار…
Read MoreTag: علی
اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر
اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…
Read Moreحمایت علی شاعر
شاید آجائے کوئی تازہ ہوا کا جھونکا مَیں نے اِس آس میں دروازہ کھلا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول
Read Moreرات کٹ جائے کسی طرح تو بس ۔۔۔ حمایت علی شاعر
رات کٹ جائے کسی طرح تو بس ایک اِک لمحہ ہے ایک ایک برس روح اور جسم میں ہے جنگ کڑی ٹوٹ جائے نہ کہیں تارِ نفس ایسے جینے سے بھلا کیا حاصل زیست میں رنگ ہی باقی ہے نہ رَس اِک ذرا جراتِ پرواز کہ آج سو گئے تھک کے نگہبانِ قفس خامشی بول رہی ہو جیسے دل کی دھڑکن ہے کہ آوازِ جرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آگ میں پھول
Read Moreتنہا تنہا ۔۔۔ حمایت علی شاعر
تنہا تنہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے ۔۔۔ یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے۔۔۔ میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ ۔۔۔ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ…
Read Moreعلی اصغر عباس
لوگ پیڑوں کی طرح مجبور تھے، جھکتے گئے مَیں پرندہ تھا، ہَوا کا سامنا کرتا رہا
Read Moreعلی اصغر عباس
رات خالی پڑا رہا بستر جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے
حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے دراز سایۂ دیوار ہوتا جاتا ہے یہ کس نے دُھوپ کنارے سے جھانک کر دیکھا افق بھی سرخیِ رخسار ہوتا جاتا ہے شکار گاہ میں ہانکا کرانے والا ہوں ہدف بھی میرا طلب گار ہوتا جاتا ہے شہابِ ثاقبِ دل ٹوٹ کر گرا جائے کمالِ دیدۂ مے خوار ہوتا جاتا ہے دیارِ ہجر میں پازیبِ غم چھنکتی سن شکیب درد کی جھنکار ہوتا جاتا ہے اشارہ پاتے ہی وہم و گماں، یقین ہوئے کشادہ جامۂ اسرار ہوتا جاتا ہے اے چوبِ خیمۂ جاں…
Read Moreخوابِ یوسف ! ۔۔۔ علی اصغر عباس
خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہوائوں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…
Read Moreعلی ارمان…… نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی
نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی یقیں کے لہجے میں لکنتیں ہیں گمان جیسی زمین سے پیش آﺅں کس طرح کجروی سے کہاں سے لاﺅں میں گردشیں آسمان جیسی بہت ہی ضدی انا ہے کب ہار مانتی ہے لُٹے ہوئے اک نواب کی آن بان جیسی لہو میں اب بھی کبھی مچلتی ہے کوئی خواہش عذابِ ہجرت میں کٹ چکے خاندان جیسی اُسے چھوا تو بدن میں اک کپکپی سی جاگی کسی پرندے کی پہلی پہلی اڑان جیسی ابھی بھی یادوں کے طاق سے تیر مارتی ہے…
Read More