وہ مناظر ہیں یہاں، جن میں کوئی رنگ نہ بو،بھاگ چلو جاتے موسم کی فجا ہے، کہیں مانگے نہ لہو، بھاگ چلو کوئی آواز پسِ در ہےنہ آہٹ سرِ کُو، بھاگ چلو بے صدائی کا وہ عالم ہے کہ جم جائے لہو، بھاگ چلو یہ وہ بستی ہے جہاں شام سے سو جاتے ہیں سب اہلِ وفا شب کا سنّاٹا دکھائے گا عجب عالمِ ہو، بھاگ چلو کیا عجب منظرِ بے چہرگی ہر سمت نظر آتا ہے ہر کوئی، اَور کوئی ہے، نہ یہاں میں ہے نہ تُو، بھاگ چلو…
Read MoreTag: bani
بانی
شب، کون تھا یہاں جو سمندر کو پی گیا اب کوئی موجِ آب نہ موجِ سراب ہے
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا
او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا کوئی بھی زخم سے چیخا تو زیاں ہے سب کا ہے تو اک شخص کے ہونٹوں پہ ترا قصّۂ غم شاملِ قصّہ مگر دودِ فُغاں ہے سب کا آ بھی جاتے ہیں اِدھر بیتی رُتوں کے جھونکے اب یہی خانۂ غم کنجِ اماں ہے سب کا اک چمک سی نظر آ جائے، تڑپ اٹھتے ہیں حسن کے باب میں ادراک جواں ہے سب کا ایک اک شخص ہے ٹوٹا ہوا اندر سے یہاں کیا چھپائے گا کوئی، حال عیاں ہے…
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ تنہا تھا مثلِ آئنہ تارہ، سرِ اُفق
تنہا تھا مثلِ آئنہ تارہ ، سرِ اُفق اُٹھتی نہ تھی نگاہ دوبارہ ، سرِ افق سب دم بخود پڑے تھے خسِ جسم و جاں لیے لہرا رہا تھا کوئی شرارہ سرِ افق اک موجِ بے پناہ میں ہم یوں اُڑے پھرے جیسے کوئی طلسمی غبارہ سرِ افق کب سے پڑے ہیں بند زمان و مکاں کے در کوئی صدا نہ کوئی اشارہ سرِ افق سب کچھ سمیٹ کر مرے اندر سے لے گیا اک ٹوٹتی کرن کا نظارہ سرِ افق
Read Moreبانی ۔۔۔۔ شب چاند تھا جہاں وہیں اب آفتاب ہے
شب چاند تھا جہاں وہیں اب آفتاب ہے در پر مرے یہ صبح کا پہلا عتاب ہے آواز کوئی سر سے گزرتی چلی گئی میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حرفِ خطاب ہے ہر گز یہ سچ نہیں کہ لگن خام تھی مری ہاں کچھ بھی جو کہے جو یہاں کامیاب ہے شب، کون تھا یہاں جو سمندر کو پی گیا اب کوئی موجِ آب نہ موجِ سراب ہے اک لمحہ جس کے سینے میں کچھ پل رہا ہے کھوٹ بانی ابھی وہ اپنے لیے خود عذاب ہے
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف
سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف مری ایک ذاتِ دگر کی طرف بھرے شہر میں اک بیاباں بھی تھا اشارہ تھا اپنے ہی گھر کی طرف مرے واسطے جانے کیا لائے گی گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف کنارہ ہی کٹنے کی سب دیر تھی پھسلتے گئے ہم بھنور کی طرح کوئی درمیاں سے نکلتا گیا نہ دیکھا کسی ہم سفر کی طرف تری دشمنی خود ہی مائل رہی کسی رشتۂ بے ضرر کی طرف رہی دل میں حسرت کہ بانی چلیں کسی منزلِ پُر خطر کی طرف
Read Moreبانی ۔۔۔۔ میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں
میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں محاذ سے لوٹتا ہوا نیم تن سپاہی میں اپنا ٹوٹا ہوا عقیدہ اب آپ اپنے لیے وطن ہوں میں جانتا تھا گھنے گھنے جنگلوں کے سینے میں دفن ہے جومتاعِ نم وہ کسی طرح بھی نہ لا سکوں گا میں پورے دن کی چتا جلا کر چلا ہوں گھر کو کہ جیسے سورج کے پیٹ میں ٹوٹتی ہوئی آخری کرن ہوں مرا کوئی خواب تھا جسےمیں سجا چکا ہوں بڑی نفاست…
Read Moreپناہ کہیں ۔۔۔۔ بانی
پناہ کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شب کی آوارہ ہوا ایک ڈائن کی طرح! آسمانوں سے چرا لائی ہے گم گشتہ صدائیں عرصۂ آفاق کا تاریک شور اجنبی دیسوں کے پیڑوں سے اُڑا لائی ہے پتے سسکیاں بھرتے ہوئے تھک چکی ہے اور باقی شب سکوں سے کاٹنے کے واسطے چاہتی ہے اپنے شانوں سے اُتارے زہر آلودہ صدائوں، چیختے پتّوں کا بوجھ! ڈھونڈتی ہے کوئی دروازہ کھلا کوئی کھڑکی ادھ کھلی کوئی بستر جو کسی کے واسطے خالی پڑا ہو! …………………… ( حرف معتبر)
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے
تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے سب واقعے ہمارے لیے دردناک تھے اندازِ گفتگو تو بڑے پر تپاک تھے اندر سے قربِ سرد سے دونوں ہلاک تھے ٹوٹا عجب طرح سے طلسمِ سفر کہ جب منظر ہمارے چار طرف ہولناک تھے اب ہو کوئی چبھن تو محبّت سمجھ اسے وہ ربط خود ہی مٹ گئے جو غم سے پاک تھے ہم جسم سے ہٹا نہ سکے کاہلی کی برف جس کی تہوں میں خواب بڑے تابناک تھے
Read Moreروایت ۔۔۔۔۔۔ بانی
روایت ۔۔۔۔۔۔ گھر کی محدود وسعت میں اُڑتی ہوئی دُھول کی تتلیاں بیٹھتی ہیں کبھی ریڈیو پر ۔۔۔۔۔ کبھی کرسیوں کے سکوں بخش آغوش میں! آئینہ سے ہٹا دیں اگر تو کتابوں کے شانوں پہ سو جائیں گی دُھول کی تتلیاں۔۔۔۔۔۔۔ تا ابد گھر کے اندر رہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔ اگر روشنی ان کو باہر بلائے تو یہ مسکراتی رہیں گی دریچے کے پاس!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (حرفِ معتبر)
Read More