رکھتے ہیں تب و تاب عجب ذات میں جگنو ٹوٹے ہوئے تارے ہیں کہ برسات میں جگنو شہروں سے نکالا انھیں مسموم فضا نے ملتے ہیں درخشندہ مضافات میں جگنو نازک ہیں بہت بند انھیں مٹھی میں نہ کرنا دم توڑ نہ دیں حبس کے حالات میں جگنو لگتا ہے کہ پر جلتے چراغوں کو لگے ہیں دیکھے کوئی اُڑتے ہوئے ظلمات میں جگنو دن میں کبھی آتے نہیں سورج کے مقابل کرتے ہیں عیاں اپنی چمک رات میں جگنو گلزار پرندوں کو بھٹکتے ہوئے پاکر رہبر ہوئے تاریک مقامات…
Read MoreTag: Gulzar Bukhari
گلزار بخاری ۔۔۔ حالات سے ماورا نہیں میں
گلزار بخاری ۔۔۔ سائے
تجھ کو دیکھا ہے دھوپ میں جلتے جی جلاتا ہے اضطراب ترا آگ سے کم نہیں ہے گرمی بھی جس نے جھلسا دیا شباب ترا کندنی رنگ ہو گیا ایسا خستہ ہے خال و خد کی زیبائی چاند زیرِ غبار ہو جیسے تیرے چہرے کا حال ہے ایسا جیسے مرجھا گیا ہو پھول کوئی شاخِ زیتون تازگی کھوئے اور ہو فاختہ ملول کوئی تجھ کو تکلیف سے بچا لیتے دکھ سے امن و امان بن جاتے ڈھال بنتے تری تمازت میں کاش ہم سائبان بن جاتے جن کو دنیا درخت…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ گیت
آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں لاکھ چھپانا چاہو پھر بھی اپنا آپ دکھا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں سیہج سجے جب من کی کیاری اندر کھلتی ہے پھلواری سانسیں مہک لٹا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں پیار سکھا دیں انسانوں کو شوق ہوا دے ارمانوں کو سوئے خواب جگا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں میٹھے بول حلاوت لائیں مہر محبت جہاں سے پائیں دامن کو پھیلا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں قربت چاہے روکے دوری نفرت ہو یا ہو مہجوری ہر دیوار…
Read More