بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں میں کون ہوں کہ بھرے شہر میں بھی تنہا ہوں
Read MoreTag: Poetry
نشور واحدی
قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
Read Moreحفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
Read Moreخالد احمد
گھل مل چلا تھا شب کے اندھیرے میں اک گناہ دھیرے سے در کو موجِ ہوا کھٹکھٹا گئی
Read Moreعبدالرئوف زین ۔۔۔ دو غزلیں
کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی نیا شور اندر مچانے کی خاطر مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں زندگی ایسے کیسے کٹے…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ روزہ
روزہ ۔۔۔۔ بھوکا پیاسا ہی اک نہیں کافی آنکھ بھی روزہ دار ہو تیری کر تلاوت مگر سمجھ کے تو صوم کیا فلسفہ ہے کیا اس کا وہ مخاطب ہے تجھ سے قرآں میں مت سنیں کان کچھ غلط صاحب ہاتھ بھی روزہ دار ہوں تیرے کر ملاوٹ نہ کوئی چیزوں میں مہنگے داموں نہ بیچ ،رب سے ڈر پیدا اشیا کی یوں نہ قلت کر وہ ہے حاضر بھی اور ناظر بھی وہ تو باطن سے بھی ترے واقف رحم کر خود پہ ہوش کر بندے اپنی حد سے…
Read Moreنادیہ سحر ۔۔۔ کاغذی کشتیاں بنانے میں
کاغذی کشتیاں بنانے میں کٹ گئی عمر جی لگانے میں اب نہ دل ہے نہ درد باقی ہےتُو ملا بھی تو کس زمانے میں اک بھرم تھا سو وہ بھی ٹوٹ گیا کیا ملا تجھ کو آزمانے میں کچھ تو کردار آپ کا بھی ہے درمیاں فاصلے بڑھانے میں سارے موسم گزر گئے مجھ میںدیر کر دی نا مجھ تک آنے میں صاف دھڑکن سنائی دیتی ہے جیسے دل ہے مرے سرہانے میں نیند یا خواب کے جھروکوں میں میں کہاں ہوں ترے فسانے میں رایگاں کر دی ہم نے…
Read Moreخالد احمد
حُسنِ آخر نے کیا حُسن کو آخر تجھ پر آخری روپ دیا ، آخری سُورت لکھی
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی
بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی ۔۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی شرم کی بھی ہے کچھ حیا کی بھی بات حیرت کی بھی ہے سوچیں تو زیب دیتا ہے کیا ہمیں بولو چاند آتے نظر ہی رمضاں کا مہ مبارک کا پاس کیا رکھا روزہ داروں کو اس کے پیاروں کو بیچ کے مہنگے داموں اشیا سب عازمِ عمرہ آخری عشرے کچھ تو خوفِ خدا کیا جائے دھوکاخود کو نہ یوں دیا جائے دل کی تسکین کا سنو ساماں اس کے بندوں کے کام آنے میں…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی
جاں کو ہر دکھ کی ہر اک غم کی دوا ملتی ہے جب گلے آ کے مدینے کی ہوا ملتی ہے موسم ایسا کہ گھلی جاتی ہے شبنم دل میں خاک ایسی جسے چھولیں تو شفا ملتی ہے نعت پڑھتے ہوئے سرشار ہوا جاتا ہوں میری نسبت لبِ حسان سے جا ملتی ہے آپ کی مدح کا ہوتا ہے وہاں سے آغاز سرحدِ عقل جہاں عشق سے آ ملتی ہے ہم بھلا کیسے نہ اس ذکر سے وابستہ رہیں یاد سے جن کی ہمیں یادِ خدا ملتی ہے ایک درویش…
Read More