جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں جابر مجھ سے عہد نیا…
Read MoreTag: Poetry
محمد علوی ۔۔۔ سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں
سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں ڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تک کون پھرتا ہے کھلے سر رات میں چاندنی پی کر بہک جاتی ہے رات چاند بن جاتا ہے ساغر رات میں چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیں جھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی بتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں رات کا ہم پر بڑا احسان ہے رو لیا کرتے ہیں کھل کر رات میں دل کا پہلو میں گماں ہوتا نہیں آنکھ بن جاتی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب
آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب آرزو میرے دل کی بر آئے سب کا پورا کرے خدا مطلب کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب رک گئی بات تا زباں آ کر دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب غیر کی اور اس قدر تعریف ہم سمجھتے…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
کبھی زندگی کی خواہش ، کبھی آرزو اجل کی کبھی راس دشتِ ویراں ، کبھی جستجو محل کی مرے سامنے سے گزرا ، نہ کیا سلام جس نے مرے ہاتھ چومتا تھا ، ابھی بات ہے یہ کل کی وہی کامیاب ٹھہرا ہے جہانِ تاز و تگ میں جو کرے صمیمِ دل سے ، سدا پیروی عمل کی یہ عجیب سانحہ ہے ، وہ مجھے بھلا چکا ہے کبھی رکھتا تھا خبر تک ، جو مرے ہر ایک پل کی نہ ثبات ہے کسی کو ، نہ دوام ہے کسی…
Read Moreعباس ممتاز ۔۔۔ دو غزلیں
اب جو پیروں پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک دنیا سے ہم لڑے ہوئے ہیں دیکھ ہم کو کہانیاں نہ سنا ہم اسی شہر میں بڑے ہوئے ہیں خود کو برباد کر لیا ہم نے اپنی ضد پر مگر اڑے ہوئے ہیں کوئی تو ہم کو تھامنے آئے کوئی دیکھے کہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک سادہ سی بات تھی، لیکن کتنی مشکل میں ہم پڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ جدائی کے ستم ڈھانے سے پہلے پلٹ آؤ بکھر جانے سے پہلے خوشی تھی، رنگ تھے، رعنائیاں تھیں تمہارے شہر میں…
Read Moreنجیب احمد
اس دائرۂ روشنی و رنگ سے آگے کیا جانیے کس حال میں بستی کے مکیں ہیں خلفَ دائرةِ الضياءِ والألوانِ،لا ندري ما حالُ أهلِ المكانِ
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں
زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…
Read Moreسیّد ریاض حسین زیدی ۔۔۔ قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو
قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو اے خدا گھر یہ پائمال نہ ہو زندہ رہنا ہے دوریوں میں بھی مر نہ جائیں اگر وصال نہ ہو ہے یہ اچھا کہ خود پہ کھل جائیں غمِ دنیا کا احتمال نہ ہو ہے تمنا خود آگہی سے جئیں سر نگوں ہو کے کچھ سوال نہ ہو عہدِ ماضی کہ حال مستقبل بے اماں کوئی ماہ و سال نہ ہو چشمِ حیراں ہو چار سو نگراں زخم وہ جس کا اندمال نہ ہو آن قائم رہے بہر صورت جان جائے تو…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے
دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے کس نے پامال کیا حُسنِ سحر کون کہے کون سمجھے گا یہاں دل کے دھڑکنے کی صدا اُن سے احوالِ جگر ، دیدئہ تر کون کہے کون ایسا ہے جو دریا کی تہوں میں اُترے سیپ سے کس نے نکالے ہیں گہر کون کہے کس نے رکھے ہیں در و بام ، دریچے اُلٹے کس نے عجلت میں بنایا ہے یہ گھر کون کہے دیکھ سکتا ہے یہاں کون کسی کی جانب کون اس شہر میں ہے اہلِ نظر کون…
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے
کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے ہم نے چنے تھے پیار کے انجان راستے منصف کو ذاتیات سے فرصت نہ مل سکی اہلِ جفا نے کر دیے ویران راستے بچھڑے تو پھر نہ مل سکے ایسے جدا ہوئے میں اور میرے شہر کے سنسان راستے رخصت کیا تو باپ نے بیٹے کو دی دعا مالک کرے سبھی ترے آسان راستے اذنِ سفر ملا تو منازل کی ٹھان لی پھر راستوں نے ہم کو کیے دان راستے اب تک ہیں مجھ کو یاد وہ گیسو، وہ سرخ لب وہ…
Read More