عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے مے خانے میں دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں جام اسی کو دے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے جام نہ دینے کی…
Read MoreTag: qamar jalavi
قمر جلالوی ۔۔۔ سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون
سوزِ غمِ فراق سے دل کو بچائے کون ظالم تری لگائی ہوئی کو بجھائے کون مٹی مریضِ غم کی ٹھکانے لگائے کون دنیا تو ان کے ساتھ ہے میت اٹھائے کون تیور چڑھا کے پوچھ رہے ہیں وہ حالِ دل رودادِ غم تو یاد ہے لیکن سنائے کون ہم آج کہہ رہے ہیں یہاں داستانِ قیس کل دیکھئے ہمارا فسانہ سنائے کون اے ناخدا، خدا پہ مجھے چھوڑ کر تو دیکھ ساحل پہ کون جا کے لگے ڈوب جائے کون رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمر اس چاندنی…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے
اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل
ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل برق پر پھول ہنسے، برق نشیمن پہ گری میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل خیر گلشن میں اُڑا تھا مری وحشت کا مذاق اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل کوششیں کرتی ہوئی پھرتی ہے گلشن میں نسیم جمع ہوتا نہیں بکھرا ہو شیرازۂ گل اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دے طوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ اہلِ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے یہ کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…
Read More