شاہین عباس

اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے

Read More

شاہین عباس

یہ وقت کا خاص آدمی تھا بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے

Read More

شاہین عباس

عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا

Read More

شاہین عباس

شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر

Read More

شاہین عباس

اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا تب کہیں جا کر یہ ز یر و بم بنے

Read More

شاہین عباس ۔۔۔   اے تصویر انسان​

اے تصویر انسان​ (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…

Read More

شاہین عباس

کہاں کہاں اِس مکاں کی تنہائی کم کروں گا یہ میں اکیلا مکاں گرفتہ ، مکاں گزیدہ

Read More

شاہین عباس

تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور

Read More

شاہین عباس

یہ جو ہم کچھ کہتے کہتے کچھ بھی کہ پاتے نہیں زندگی شاید اِسی پیغمبری کا نام ہے

Read More

شاہین عباس

گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا

Read More