محمد نوید مرزا ۔۔۔ رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا

رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا خوشبو کے باوجود گُلِ تر نہیں کھلا لہروں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا میں تشنہ لبی میں ، مجھ پہ سمندر نہیں کھلا اک خواب تھا ، میں جس کو نہ تعبیر دے سکا ذہنوں پہ منکشف تھا ، زباں پر نہیں کھلا میں جس پہ دستکوں کے نشاں چھوڑ کر گیا حیراں ہوں کائنات کا وہ در نہیں کھلا میں اُس کی جستجو میں رہا ہوں تمام عمر یہ اور بات مجھ پہ ستم گر نہیں کھلا

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر

آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر جڑ نہیں سکتا دوبارہ ٹوٹ کر آج بھی ہے آنکھ میں اُس کی خلش چبھ گیا تھا اک نظارہ ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں بکھرنے کے لیے پھول کرتے ہیں اشارہ ٹوٹ کر زندگی کیا ہے بڑی آسانی سے کہہ گیا مجھ کو ستارہ ٹوٹ کر جا لگا چُپ چاپ دریا کے گلے ایک دن آخر کنارہ ٹوٹ کر تم کو ثابت دیکھ کر حیرت ہوئی جس جگہ پر ہے گزارہ ٹُوٹ کر ہاتھ کب آتا ہے راحت سرحدی تار سے گیسی غبارہ…

Read More

علی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے

درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو

آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…

Read More

انشااللہ خان انشا ۔۔۔ اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا لو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا   مشغول کِیا چاہیے اِس دل کو کسی طور لے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا   گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی ہر طور غرض آپ سے ملنا ہے کم اچھا   اغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیں مجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا   ہم معتکفِ خلوتِ بت خانہ ہیں اے شیخ جاتا ہے تو جا تُو پئے طوفِ…

Read More

سعید الزماں عباسی

تم کیا اسیرِ رسم و روایات ہو گئے دنیا رہینِ گردشِ حالات ہو گئی ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

قاضی زبیر بیخود

لڑیں ساقی سے نظریں ، دور میں جامِ شراب آیا سنبھل اے گردشِ ایام اب تیرا جواب آیا ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

شاہین بدر

جلتا ہے چمن آتشِ لالہ کے شرر سے کچھ دیر تو گھنگور گھٹا ٹوٹ کے برسے ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

مجید شاہد ۔۔۔ کس شہرِ خرابی میں سرگرمِ تگ و تاز

کس شہرِ خرابی میں ہو سرگرمِ تگ و تازہوتے ہیں یہاں صرف بگولے ہی سرافراز کانٹوں کی زباں نغمۂ گل چھیڑ رہی ہےسائے نظر آتے ہیں سرِ مسندِ اعزاز پانی کی روانی کو ترستے ہیں سمندرحالانکہ ہیں بہتے ہوئے دریاؤں کے ہمراز کتنی ہی امیدوں کا لہو ان میں رچا ہےعنوانِ بہاراں ہیں بظاہر جو لبِ ناز کچھ قدر ہماری بھی کر، اے دوست! کہ ہم نےتیرے لیے خود کو بھی کیا ہے نظر انداز بیٹھے ہیں خبر بن کے رہِ بے خبری میںہم خاک نشینوں کا ہے ادنیٰ سا…

Read More