بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا
Read MoreTag: Urdu ghazal
عزیز اعجاز
تعلقات ہی اے دوست تجھ سے نازک تھے کڑا دباؤ پڑا ٹوٹتے سہارے پر
Read Moreاحمد فراز
سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
Read Moreشفیق آصف ۔۔۔ سورج کا عکس چھاؤں کی جانب نہ ہو سکا
سورج کا عکس چھاؤں کی جانب نہ ہو سکا ہم سے سفر میں ایسا مناسب نہ ہو سکا کل رات ابرِ غم کے حوالے نہ مِل سکے کل رات بھی شُمارِ کواکب نہ ہو سکا راسخ تھا اِس طرح تُو مِرے لا شعور میں دشمن مِرے شعور پہ غالب نہ ہو سکا لُوٹی ہیں اُس نے پھول سے چہروں کی رونقیں اُس جیسا کوئی وقت کا غاصب نہ ہو سکا آصف میں ڈٹ گیا تھا مقابل کے سامنے پھر بھی ستم کی سمت وہ راغب نہ ہو سکا
Read Moreزاہد محمود زاہد ۔۔۔ اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں
اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں کسی چراغ کی زد پر مگر ہوائیں ہیں یہ آگ بڑھنے سے پہلے ہی روک لو ورنہ جو شعلہ بھڑکا اِدھر تواُدھر ہوائیں ہیں کوئی چراغ ہمیں روشنی نہیں دیتا براجمان ہر اک بام پر ہوائیں ہیں تمھاری آنکھ میں جب دھول جھونکتے گزریں سمجھ میں آئے گا تب بے خبر! ہوائیں ہیں گلِ حیات کھلا ہے انھی کے ہونے سے کہ یہ ہوائیں بہت کارگر ہوائیں ہیں چراغ تو نے جلایا تو ہے مگر زاہد سفر ہے شام کا اور…
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے
وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے مکاں میں رہتے ہوے لا مکان کیسے لگے سجا کے آنکھ میں لاشے حسین خوابوں کے وفا کے لٹتے ہوے کاروان کیسے لگے میں ممکنات سے لمحے چرا کے لایا ہوں جو درد تونے کیے مجھ کو دان، کیسے لگے لطیف وقت تھا جو تیرے ساتھ بیت گیا جو ٹوٹے ہجرکے پھر آسمان، کیسے لگے تجھے کہا تھا: محبت فریب دیتی ہے سجائے عشق کے دل پر نشان، کیسے لگے ہوا کے زور سے گر تو گئے درخت‘ مگر پرندے پھرتے ہوے بے…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے
دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول
خالد احمد
آج دل کی وہ چھب ، وہ دھج نہ سہی ہجر میں داغ دار سا ، کچھ ہے
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ
کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ بلندی کی طرف اُن کو ہوائیں لے کے جاتی ہیں بناتے ہیں پرندے رہگزر آہستہ آہستہ ہوا تبدیلیوں کی چل پڑی موسم بدلنے سے ملیں گے اب نئے شام و سحر آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی کب…
Read More